اس گھٹن کے عالم میں، حق نہیں نہاں رکھنا

اِبنِ اُمید — نومبر 10، 2011 12:35 شام
------------------------------------------------------------------------------
اس گھٹن کے عالم میں، حق نہیں نہاں رکھنا
لب اگر سلے بھی ہوں، جاری یہ بیاں رکھنا
تم فقط ہی لفظوں کے، بت نہیں کھڑے کرنا
ایک سچ ہنر کرنا، حرف حرف جاں رکھنا
ہم کو تو نہیں آتے، طور بزم شاہی کے
جرم ہوگیا دیکھو، منہ میں اب زباں رکھنا
عزم کے چراغوں کو خوں سے زندگی دینا
اور ہر ایک منزل پہ، راہ کا گماں رکھنا
تم جنون ساحل پہ، کشتیاں جلادینا
واپسی کی اُمیدیں ، نہ کوئی نشاں رکھنا
زہر کے پیالے کا، گھونٹ گھونٹ پی لینا
آگ میں اُتر جانا، سر کو آسماں رکھنا
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
پپو — نومبر 10، 2011 3:03 شام
زبردست کلام ہے جی شکریہ
فاروق درویش — نومبر 10، 2011 6:42 شام
برادر اس کلام کی بحر بتانا پسند کریں گے؟
تم فقط ہی لفظوں کے، بت نہیں کھڑے کرنا ؟
فاروق درویش — نومبر 13، 2011 5:26 شام
محمد امین — نومبر 13، 2011 7:45 شام
آصف شفیع صاحب کی پوسٹ یہاں نظر نہیں آرہی۔۔۔
فاتح — نومبر 13، 2011 9:39 شام
عمدہ کوشش ہے۔
بحر: ہزج مثمن اشتر (فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن)
محمد امین — نومبر 13، 2011 9:40 شام
شکریہ فاتح بھائی مفید معلومات کا :) امید ہے کہ فورم کی تزئینِ نو کے بعدآپکی دید کا شرف اکثر حاصل رہے گا :)
فاتح — نومبر 13، 2011 9:43 شام
ان شاء اللہ محمد امین صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D8%AD%D9%82-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7.34978/