اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت

نور وجدان — ستمبر 1، 2020 11:51 صبح
اک پرانی اصلاح شدہ غزل
اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت
بجھا چاہتا ہے چراغِ محبت
بھروسہ کسی پر بھی ہوتا نہیں ہے
قرابت سے ہونے لگی ہے جو وحشت
ہر اِک بات پر دین کا ہے حوالہ۔۔!!
محبت ہے یہ دین کی، یا سیاست۔۔؟
تعلق ہی دنیا سے میں توڑ ڈالوں!!
مِلے ہے ہر اِک بات پر جو اذیّت
مداوا غمِ دل کا ہو نورؔ کیسے
کہ زخموں سے ہونے لگی ہے محبت
محمد شکیل خورشید — ستمبر 3، 2020 12:04 شام
خوب
نور وجدان — ستمبر 4، 2020 9:41 صبح
آپکا بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%DB%81%DB%92-%D9%86%D9%81%D8%B1%D8%AA.113062/