اشرفیاں لٹیں کوئلوں پر مہر

Qamar Alam — فروری 18، 2015 1:24 شام
اشرفیاں لٹیں کوئلوں پر مہر
اے چاند یہاں نہ نکلا کر یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
مری کتنی بڑھیا کوٹھی ہے مری کتنی ودھیا کاریں ہیں
مرا کتنا سوہنا بیٹا ہے کیوں لوگ نہ جانے جلتے ہیں
کوئلوں پرمہر لگاتے ہیں اربوں کے ڈالر لٹتے ہیں
کبھی بوتل پر کبھی کپڑوں پر یہاں سوموٹو نکلتے ہیں
کہیں قبضہ ہے کہیں بھتا ہے کہیں چوری ہے کہیں ڈاکہ ہے
ہے رشوت کا بازار گرم یہاں اسٹے آرڈر چلتے ہیں
ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
ابھی اوپر والا زندہ ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے
یہ عزت عظمت اور حشمت یہ کوٹھی بنگلے اور دولت
یہ ارمانوں کی محل حسیں سب دھوکا ہے سب دھوکا ہے
جب اپنی زباں ہو گی شاہد اور پیر گواہی دیں گے سب
اللہ بھی ہونگے غصے میں پھر کیا تدبیر چلاؤ گے
کیا حشر کے دن ان "شرفاء" کو تم اپنا ولی بناؤ گے
کیا قبر میں ڈالر کھاؤ گے سونے چاندی لے جاؤ گے
ریشم کا کفن بناؤ گے پچھتاؤ گے پچھتاؤ گے
قمر عالم​
سید زبیر — فروری 18، 2015 1:28 شام
لا جواب
بہت عمدہ انداز
کیا قبر میں ڈالر کھاؤ گے سونے چاندی لے جاؤ گے
ریشم کا کفن بناؤ گے پچھتاؤ گے پچھتاؤ گے
bilal260 — فروری 18، 2015 1:40 شام
اچھی شاعری ہے ماشاء اللہ۔
بہت خوب۔
Qamar Alam — فروری 18، 2015 1:47 شام
اوپر والا(یہ ہندوئوں کے نزدیک فقرہ درست ہے۔ مسلمانوں کے لئے نہیں)۔
میں شعر و شاعری نہیں جانتا مگر پھر بھی اپنی ایمانی تقاضے کے مطابق اصلاح کرنا چاہوں گا اگر برا نہ منائیں تو۔
پہلا شعر ہے کہ ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
اس میں اندھے بہرے ٹھیک ہے۔
اب لیجئے دوسرا شعر اس میں کچھ یوں ہو جائے تو کیا کہے گے آپ محترم
اللہ ہر وقت دیکھتا ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے۔(انوکھا اس پر کیا کہے گے اہل علم)۔
ایک حساب سے انوکھا لفظ ٹھیک ہے کیونکہ اللہ عزوجل کی ذات عدل کر کے پھر کسی بہانے سے اپنے بندوں کو بخش دیتی ہے۔(میں زیادہ علم نہیں رکھتا تمام شعراء سے معزرت اصلاح کرنے کے لئے اگر برا لگا ہو تا)۔
اوپر والا(یہ ہندوئوں کے نزدیک فقرہ درست ہے۔ مسلمانوں کے لئے نہیں)۔
میں شعر و شاعری نہیں جانتا مگر پھر بھی اپنی ایمانی تقاضے کے مطابق اصلاح کرنا چاہوں گا اگر برا نہ منائیں تو۔
پہلا شعر ہے کہ ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
اس میں اندھے بہرے ٹھیک ہے۔
اب لیجئے دوسرا شعر اس میں کچھ یوں ہو جائے تو کیا کہے گے آپ محترم
اللہ ہر وقت دیکھتا ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے۔(انوکھا اس پر کیا کہے گے اہل علم)۔
ایک حساب سے انوکھا لفظ ٹھیک ہے کیونکہ اللہ عزوجل کی ذات عدل کر کے پھر کسی بہانے سے اپنے بندوں کو بخش دیتی ہے۔(میں زیادہ علم نہیں رکھتا تمام شعراء سے معزرت اصلاح کرنے کے لئے اگر برا لگا ہو تا)۔
My friend this poem basically is for corrupt our judges
Qamar Alam — فروری 18، 2015 1:49 شام
My friend this poem basically is for corrupt our judges
And the next line I tried to say that you cannot decieve Allah he knows how to catch
x boy — فروری 18، 2015 3:09 شام
ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
ابھی اوپر والا زندہ ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے
سراسر غلط ہے
آیت الکرسی کا ترجمہ پڑھ لیں
ابھی کا کیا مطلب ہے اوپر والا رب العزت ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ہر نفس کو موت ہے
Qamar Alam — فروری 19، 2015 8:02 صبح
ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
ابھی اوپر والا زندہ ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے
سراسر غلط ہے
آیت الکرسی کا ترجمہ پڑھ لیں
ابھی کا کیا مطلب ہے اوپر والا رب العزت ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ہر نفس کو موت ہے
I have changed this. only on your recommendation :)
ان عقل کے اندھے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
ابھی رب کا عدل بھی ہونا ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے
bilal260 — فروری 19، 2015 8:16 صبح
ان اندھے بہرے لوگوں تک پیغام مرا یہ پہنچا دو
ابھی اوپر والا زندہ ہے اور اسکا عدل انوکھا ہے
سراسر غلط ہے
آیت الکرسی کا ترجمہ پڑھ لیں
ابھی کا کیا مطلب ہے اوپر والا رب العزت ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ہر نفس کو موت ہے
میں نے بھی اسی بات کی نشاندہی کی تھی مگر ۔۔۔۔۔۔
پھر میں نے یو ٹرن لے لیاجب آپ نے سمجھایا تو محترم کو معلوم ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ تو تبدیلی کرنا پڑے گی۔
مجھے تو صاحب نے غصہ میں انگلش میں جھاڑ ڈال دی اس لئے میں نے اتنی اچھی شاعری پر اچھے کمنٹس دے دیئے ۔
اللہ عزوجل ان صاحب کو عمر حضر صحت و عافیت کے ساتھ عطا فرمائے۔
میں نے بھی یہی اصلاح کرنے کو کوشش کی تھی کہ اوپر والا کی جگہ کچھ اور لکھ لیں۔
چھوٹا منہ اور بڑی بات کر ڈالی اس لئے دال کیا گلنی تھی گیس چلی گئی ۔(مسکراتے ہوئے)۔
Qamar Alam — فروری 19، 2015 8:42 صبح
میں نے بھی اسی بات کی نشاندہی کی تھی مگر ۔۔۔۔۔۔
پھر میں نے یو ٹرن لے لیاجب آپ نے سمجھایا تو محترم کو معلوم ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ تو تبدیلی کرنا پڑے گی۔
مجھے تو صاحب نے غصہ میں انگلش میں جھاڑ ڈال دی اس لئے میں نے اتنی اچھی شاعری پر اچھے کمنٹس دے دیئے ۔
اللہ عزوجل ان صاحب کو عمر حضر صحت و عافیت کے ساتھ عطا فرمائے۔
میں نے بھی یہی اصلاح کرنے کو کوشش کی تھی کہ اوپر والا کی جگہ کچھ اور لکھ لیں۔
چھوٹا منہ اور بڑی بات کر ڈالی اس لئے دال کیا گلنی تھی گیس چلی گئی ۔(مسکراتے ہوئے)۔
Arey bhaio kun naraz ho rahe ho, mein ne change kar dia hai shair, peley baat meri samajh mein naheen aae thi magar jab ghor kia ta samajh aae ke aap log theek he keh rahe hain lihaza corection kar de.. Regards
Qamar Alam — فروری 19، 2015 8:44 صبح
میں نے بھی اسی بات کی نشاندہی کی تھی مگر ۔۔۔۔۔۔
پھر میں نے یو ٹرن لے لیاجب آپ نے سمجھایا تو محترم کو معلوم ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ تو تبدیلی کرنا پڑے گی۔
مجھے تو صاحب نے غصہ میں انگلش میں جھاڑ ڈال دی اس لئے میں نے اتنی اچھی شاعری پر اچھے کمنٹس دے دیئے ۔
اللہ عزوجل ان صاحب کو عمر حضر صحت و عافیت کے ساتھ عطا فرمائے۔
میں نے بھی یہی اصلاح کرنے کو کوشش کی تھی کہ اوپر والا کی جگہ کچھ اور لکھ لیں۔
چھوٹا منہ اور بڑی بات کر ڈالی اس لئے دال کیا گلنی تھی گیس چلی گئی ۔(مسکراتے ہوئے)۔
bhai mujhe us page ka link send kar do jahan par ghazlen post kartey hai. Still I can't find that :-(
bilal260 — فروری 19، 2015 8:52 صبح
Arey bhaio kun naraz ho rahe ho, mein ne change kar dia hai shair, peley baat meri samajh mein naheen aae thi magar jab ghor kia ta samajh aae ke aap log theek he keh rahe hain lihaza corection kar de.. Regards
اردو میں لکھنے کی کوشش کریں بڑی مزے دار زبان ہے ار دو۔ اردو۔
bilal260 — فروری 19، 2015 11:05 صبح
bhai mujhe us page ka link send kar do jahan par ghazlen post kartey hai. Still I can't find that :-(
یہاں پر اپنی غزلیں پوسٹ کریں۔
بزم سخن
Qamar Alam — فروری 19، 2015 11:13 صبح
کیا بات ھ
یہاں پر اپنی غزلیں پوسٹ کریں۔
بزم سخن
بلال اس نمبر پر مس کال کرئے 0529000245
نظام الدین — فروری 19، 2015 12:15 شام
حبیب جالب کی نظم درج ذیل ہے
اے چاند یہاں نا نکلا کر ،
بے نام سے سپنے دکھلا کر ،
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ،
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں ،
نا ڈرتے ہیں نا نادم ہیں ،
نا لوگوں کے وہ خادم ہیں ،
ہے یہاں پر کاروبار بہت ،
اس دیس میں گردے بکتے ہیں ،
کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت ،
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے ،
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے ،
اور کفر کا راج ہی سچا ہے ،
یہ دیس اندھے لوگوں کا ،
اے چاند یہاں نا نکلا کر . . . . . . ! ! ! ! ،
Qamar Alam — فروری 19، 2015 1:08 شام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B4%D8%B1%D9%81%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%84%D9%B9%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D9%85%DB%81%D8%B1.80403/