اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2016 7:02 صبح
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
میں جسے قطرہ سمجھتا تھا سمندر نکلا
جذبہء شوقِ نظارہ بھی مری آنکھ میں تھا
حسنِ نظارہ بھی اس آنکھ کے اندر نکلا
بارہا دستِ مسیحا سے بھی کھائے ہیں فریب
ہم نے نشتر جسے سمجھا وہی خنجر نکلا
ہم سمجھتے تھے کہ سادہ ہے محبت کی کتاب
حاشیہ اس میں متن سے کہیں بڑھ کر نکلا
مرحلہ جب کوئی ایثار کا آیا سرِ بزم
قرعہء فال مرے نام کا اکثر نکلا
ایسا آسیب ہے گلیوں میں سنا ہے کہ ظہیر
گھر پلٹ کر نہیں آتا کہ جو باہر نکلا
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۰۶​
محمد تابش صدیقی — جنوری 2، 2017 1:41 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
میں جسے قطرہ سمجھتا تھا سمندر نکلا

بارہا دستِ مسیحا سے بھی کھائے ہیں فریب
ہم نے نشتر جسے سمجھا وہی خنجر نکلا
عمر سیف — جنوری 2، 2017 2:05 شام
خوب بہت خوب
ڈاکٹرعامر شہزاد — جنوری 3، 2017 5:48 صبح
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا
میں جسے قطرہ سمجھتا تھا سمندر نکلا

بارہا دستِ مسیحا سے بھی کھائے ہیں فریب
ہم نے نشتر جسے سمجھا وہی خنجر نکلا

مرحلہ جب کوئی ایثار کا آیا سرِ بزم
قرعہء فال مرے نام کا اکثر نکلا
بہت ہی اعلیٰ اور لاجواب غزل ہے ۔۔ زبردست
ظہیراحمدظہیر — جنوری 11، 2017 6:09 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔


بہت ہی اعلیٰ اور لاجواب غزل ہے ۔۔ زبردست

صاحبانِ کرم ! آپ حضرات کا فردا فردا بہت بہت شکریہ !! اللہ آپ کو امن و امان میں رکھے ! خوش رہیں!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B4%DA%A9%D9%90-%DA%A9%D9%85-%D8%B8%D8%B1%D9%81-%D9%85%D8%B1%D8%A7-%D8%B6%D8%A8%D8%B7-%DA%88%D8%A8%D9%88-%DA%A9%D8%B1-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7.93842/