راحیل فاروق — مارچ 16، 2014 1:52 شام
عمران شاہدؔ مرحوم دیپالپور کے ایک نوجوان شاعر تھے۔ 10 مارچ 2014ء کو کینسر سے وفات پائی۔ موصوف کی ایک نہایت عمدہ غزل "سب بے خود و ہشیار مجھے یاد کریں گے" کا جواب
اس مرثیہ کی صورت میں ہم نے دینے کی کوشش کی ہے۔ سچ کہتے تھے تم، پیارے بھائی!
جاسمن — مارچ 17، 2016 11:42 صبح
آہ!اب مرثیہ کے لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ خوبصورت ہے یا واہ واہ یا داد قبول کریں۔۔۔ہم تو بس اِس درد کو محسوس کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو عمران شاہد کے گھر والوں ،دوست احباب ،خاص طور پہ والدین کو ہو گا۔اللہ اُنہیں صبرِ جمیل دے۔ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ قبر کو روشن،ہوادار،اور کشادہ کرے۔ اس میں جنت کی کھڑکیاں کھول دے۔ آمین!
ابن رضا — مارچ 17، 2016 12:05 شام
بہت خوب!!!! جناب
محمد تابش صدیقی — مارچ 17، 2016 12:31 شام
بہت خوبصورت الفاظ میں یاد کیا ہے دوست کو.
اللہ تعالٰی غریقِ رحمت کرے. آمین
ظہیراحمدظہیر — مارچ 21، 2016 3:58 صبح
راحیل بھائی ، میں بہن جاسمن کی رائے سے متفق ہوں کہ اس طرح کی شاعری کو صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے ، اس پر تبصرہ کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہ کہوں گا کہ آپ نے اپنے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کردیا ہے۔
قاتل سے کہو کوئی کہ غفلت کی بھی حد ہے
بیٹھے ہیں سرِ دار ، تجھے یاد کریں ہیں
تو بھی تو یونہی ہم سے عبث روٹھ گیا ہے
ہم بھی یونہی بیکار تجھے یاد کریں ہیں
قاصد تجھے پہنچائیں گے احوال کہاں تک
دل والے بہت بار تجھے یاد کریں ہیں
بہت کمال کی شاعری ہے !!!!!!
محمداحمد — مارچ 28، 2016 10:11 صبح
بلاشبہ حق ادا کردیا ہے بھائی آپ نے مرثیے کا۔
مختصر یہ کہ تمام شرکائے گفتگو سے متفق ہوں۔