اللہ ہُو ۔۔۔

بشارت گیلانی — جنوری 23، 2014 1:24 شام
دل اور سحرِ رنگ و خوشبو، اللہ ہُو۔
مٹی اور مٹی کا جادو، اللہ ہُو۔
-------
نس نس میں سو سو چنبیلی کھلتی ہے۔
دھڑکن دھڑکن قولِ باہُو، اللہ ہُو۔
-------
اِس جانب اُس جانب، سب تیرے سجدے۔
وہ محراب ہو، یا پھر ابرو، اللہ ہُو۔
-------
وصل کی ایک لَلَک بھی دل میں اور تُو بھی۔
ایسی پیاس اور دامانِ جُو، اللہ ہُو۔
-------
حس کی شعبدہ بازی سب تیرا پرتو۔
منظر تُو، پس منظر بھی تُو، اللہ ہُو۔
-------
ہر سو رقصاں ہیں تیرے ہی نظاّرے۔
ہر جانب ہے دل قبلہ رُو، اللہ ہُو۔
-------
رم خوردہ سی وحشت کوئی سر گرداں۔
سینے میں دل، بن میں آہُو، اللہ ہُو۔
-------
بالوں میں ہے برف سی، دل میں شعلہ رُو۔
جاتے جاتے جائے گی خُو، اللہ ہُو۔
طارق شاہ — جنوری 23، 2014 10:00 شام
دل اور سحرِ رنگ و خوشبو، اللہ ہُو
مٹی اور مٹی کا جادو، اللہ ہُو
دل اور سحْرِ رنگ و خوشبُو، اللہ ہُو
مٹّی اور مٹّی کا جادُو، اللہ ہُو
نس نس میں سو سو چنبیلی کِھلتی ہے
دھڑکن دھڑکن قولِ باہُو، اللہ ہُو
اِس جانب اُس جانب، سب تیرے سجدے
وہ محراب ہو، یا پھر ابرو، اللہ ہُو
وصل کی ایک لَلَک بھی دل میں اور تُو بھی
ایسی پیاس اور دامانِ جُو، اللہ ہُو
حس کی شعبدہ بازی سب تیرا پرتو
منظر تُو، پس منظر بھی تُو، اللہ ہُو
ہر سو رقصاں ہیں تیرے ہی نظاّرے
ہر جانب ہے دل قبلہ رُو، اللہ ہُو
رم خوردہ سی وحشت کوئی سر گرداں
سینے میں دل، بن میں آہُو، اللہ ہُو
بالوں میں ہے برف سی، دل میں شعلہ رُو
جاتے جاتے جائے گی خُو، اللہ ہُو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب بہت سی داد قبول کیجیے
میری نظر، دو جگہ ذرا سی تبدیلی کی خواہاں ہے دیکھ لیں :
(١)
اِس جانب اُس جانب، سب تیرے سجدے
وہ محراب ہو، یا پھر ابرو، اللہ ہُو

یہاں" پھر" اضافی محسوس ہو رہا ہے ، کچھ بھی اس طرح کا ٹھیک ہوگا کہ:
ہو محراب کوئی یا ابرو، اللہ ہُو
آپ بہت بہتر سوچ لیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(٢)
رم خوردہ سی وحشت کوئی سر گرداں
سینے میں دل، بن میں آہُو، اللہ ہُو

'رم خوردہ' سے "رم دیدہ" یہاں زیادہ بہتررہے گا :
رم دیدہ سی وحشت کوئی سر گرداں
سینے میں دل، بن میں آہُو، اللہ ہُو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالوں میں ہے برف سی ، دل میں شعلہ رُو
جاتے جاتے جائے گی خُو، اللہ ہُو

بالا شعر میں "رُو" ردیف کی نسبت سے قافیہ کا شبہ دے گا اگر الگ سے شعر لکھا گیا تو ۔
ترمیم کرنا چائیں تو ٹھیک ورنہ ضروری بھی نہیں
ایک بار پھر سے بہت سی داد قبول کیجیے اور لکھتے رہیے :):)
بشارت گیلانی — جنوری 24، 2014 7:18 صبح
ذرہ نوازی ہے شاہ صاحب۔
ضرور نظرِ ثانی کریں گے۔
الف عین — جنوری 25، 2014 9:28 صبح
بہت خوب بشارت گیلانی۔ آپ کا مجموعہ شائع ہوا ہے اب تک۔ نہیں تو برقی اشاعت کا موقع دیں۔ ’سمت‘ کے لئے بھی منتظر ہوں
بشارت گیلانی — جنوری 25، 2014 12:19 شام
بہت شکریہ، عنایت۔
ابھی تک تو کچھ نہیں چھپا۔
کچھ غزلیں، نظمیں اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اتنا عرصہ کوئی فورم ہی نہیں تھا جہاں اظہارِ خیال کا موقعہ ملتا۔
سمت کے لئے جو بھی تخلیق مناسب سمجھئے، اسے انتخاب کا شرف بخشئے۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 27، 2014 4:46 شام
سبحان اللہ، بہت عمدہ حمدیہ کلام۔ بہت سی داد قبول فرمائیں :)۔
نایاب — جنوری 27، 2014 4:55 شام
سبحان اللہ
بہت خوب کہی ہے حمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حس کی شعبدہ بازی سب تیرا پرتو۔
منظر تُو، پس منظر بھی تُو، اللہ ہُو۔

بہت دعائیں
بشارت گیلانی — جنوری 28، 2014 1:40 صبح
بہت شکریہ نوید صاحب، نایاب صاحب، ذرہ نوازی ہے۔
وہ جو خود جمال ہے، اس کی بات ہی حسنِ کلام ہوتی ہے۔ دعا کریں اس کا کرم شاملِ حال رہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%DB%81%D9%8F%D9%88-%DB%94%DB%94%DB%94.71476/