F@rzana — مئی 24، 2006 3:08 شام
محبت کی اپنی الگ ہی زباں ہے
محبت سے خرد مندی اگر مشروط ہوتی تو
نہ مجنوں دشت میں جاتا
نہ کوئی کوہکن، عشرت گہ خسرو سجانے کو
کبھی تیشہ اٹھاتا اور۔ ۔ ۔
نہ کوئی سوہنی کچے گھڑے پہ پار کرتی۔ ۔ ۔ ۔
چڑھتے دریا کو!
نہ تم برباد کرتے اس طرح۔ ۔ ۔
میری تمنا کو!
نہ میں الزام دیتا اپنی ناکامی پہ دنیا کو!
محبت سے خرد مندی اگر۔ ۔ ۔ ۔
مشروط ہوتی۔ ۔ ۔ ۔
“تو“ !!!
۔
قیصرانی — مئی 24، 2006 7:36 شام
بہت عمدہ۔۔۔مگر حسبٍ معمول اس کی بلندی میری بلندی سے کچھ انچ زیادہ ہے۔ وہی گنگو تیلی والی مثال دوبارہ یاد آ رہی ہے

الف عین — مئی 25، 2006 6:41 صبح
فرزانہ اس نظم کا عنوان ہے کیا محبت کی اپنی الگ ہی زباں ہے"
لیکن اگر یہ مصرعہ ہو تو بحر میں نہیں ہے اور تم سے ٹائپ کرنے میں کچھ غلطی ہوئ ہے۔"
F@rzana — مئی 25، 2006 12:27 شام
ہوسکتا ہے اعجاز صاحب، آپ استاد ہیں۔ ۔ ۔ لیکن میں “قطع و برید“ کے موڈ میں نہیں ، بعد میں چیک کر لوں گی۔۔ ۔
ایک تو گنگو تیلی نے بھی یہاں داخلہ لے لیا ہے !
۔
اب؟؟؟؟؟

قیصرانی — مئی 25، 2006 12:32 شام
گنگوتیلی معذرت کے ساتھ واپس جا رہا ہے
F@rzana — مئی 25، 2006 12:46 شام
گنگو تیلی بھی واپس جا رہا ہے اور بے بی ہاتھی بھی ندارد ہے۔ ۔ ۔
کوئی مسئلہ ہے کیا۔ ۔ ۔ ؟؟؟

قیصرانی — مئی 25، 2006 12:50 شام
نہیں، مسئلہ تو کوئی بھی نہیں۔ آپ کو کیسے محسوس ہوا؟ بے بی ہاتھی کو کافی دن ہو گئے تھے۔ اور گنگو تیلی آپ کو پسند نہیں آیا۔ اب اگلے نک تک انتظار تو کرنا پڑے گا ہی۔
F@rzana — مئی 25، 2006 12:57 شام
گویا ہمیں آپ کو “نک“ دینے کے سوا کوئی کام ہی نہیں ہے مسٹر کنفیوز؟

قیصرانی — مئی 25، 2006 1:00 شام
بات تو آپ کی ٹھیک ہی ہے۔
شمشاد — مئی 25، 2006 6:55 شام
نیناں کا اندازِ بیاں لگ رہا ہے

قیصرانی — مئی 25، 2006 9:45 شام
فرزانہ صاحبہ، میں سمجھا کہ یہ “تو“ کا کلام ہے

شمشاد — مئی 26، 2006 2:56 شام
یہ “ تو “ کون ہے بھئی ؟
F@rzana — مئی 26، 2006 10:22 شام
وہ کیسے؟
شمشاد نے کہا:
نیناں کا اندازِ بیاں لگ رہا ہے

قیصرانی — مئی 26، 2006 10:36 شام
شمشاد نے کہا:
اس نظم کے آخر میں “تو“ لکھا ہے جہاں عموماً شاعر کا نام ہوتا ہے۔ اس لئے پوچھا کہ کیا یہ “تو“ نامی شاعر کا ہے؟
بے بی ہاتھی
شمشاد — مئی 26، 2006 11:00 شام
یہ لیجیئے فرزانہ صاحبہ ایک اور لوز بال
