الگ ہوئی

ہما — اپریل 10، 2007 7:18 شام
وہ منزلیں ہمیں کِتنی عزیز ہیں
جِن کی راہ ہم سے الگ ہوئی
آئینہ پے گرد ہے رکی ہوئی
جو شبیہ تھی اُس میں الگ ہوئی
وہ وفا کی چاہت تُمام عُمر
اب راحتوں سے الگ ہوئی
!!! پُرانی اِک کہانی یاد آئی
جب رات چاندنی سے الگ ہوئی
ہمیں بھی یاد آئے خزاں کے چمن
نیند جب خوابوں سے الگ ہوئی
ہما
عمر سیف — اپریل 10، 2007 7:32 شام
خوب۔
پاکستانی — اپریل 10، 2007 10:16 شام
خوب
قیصرانی — اپریل 10، 2007 10:22 شام
اچھا لکھا ہما
شمشاد — اپریل 11، 2007 12:21 صبح
اچھی شاعری ہے۔
دوست — اپریل 11، 2007 3:36 صبح
اچھی لگی۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%84%DA%AF-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C.6283/