ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا

امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 6:33 صبح
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
خود ستم ڈھا کے مرا نام ستمگر رکھنا
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
سیج پھولوں کی ہے گلشن ہے نہ خوشبو کوئی
عشق صحرا ہے قدم سوچ سمجھ کر رکھنا
پہلے تجدید وفا کا کوئی امکان تو تھا
اب تو عادت سی ہے دن رات کھلا در رکھنا
آج رستے میں مرے پھول بچھانے والے
یاد ہے مجھ کو ترا ہاتھ میں پتھر رکھنا
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
کیا خبر پھر سے کہیں لوٹ نہ آئے راجا
اے مرے اہل ستم ہاتھ میں پتھر رکھنا
افلاطون الشفاء الف عین الف نظامی امجد میانداد امر شہزاد باباجی ذوالقرنین شمشاد شوکت پرویز شہزاد احمد شیزان عمراعظم عینی شاہ محسن وقار علی سید زبیر محمد اسامہ سَرسَری محمد بلال اعظم محمد حفیظ الرحمٰن محمد وارث محمد یعقوب آسی محمد احمد مقدس مہ جبین نیرنگ خیال نیلم کاشف عمران یوسف-2
سید زبیر — مارچ 6، 2013 6:35 صبح
لاجواب
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
مہ جبین — مارچ 6، 2013 6:36 صبح
آج رستے میں مرے پھول بچھانے والے
یاد ہے مجھ کو ترا ہاتھ میں پتھر رکھنا

واہ واہ بہت ہی خوب امجد علی راجا
نیلم — مارچ 6، 2013 6:43 صبح
واہ بہت عمدہ :)
نامعلوم اول — مارچ 6، 2013 7:12 صبح
بہت خوب راجا صاحب۔ آپ کا فن روز بروز بلندی کی طرف مائل ہے۔ آسمان خیر منائے!
عینی شاہ — مارچ 6، 2013 7:13 صبح
امجد بھائی یہ تو کافی سیرئس پوئٹری ہے ۔۔رونی کھانی سی :confused:لیکن آپ نے اچھی ہی لکھی ہو گی :p
محمد وارث — مارچ 6، 2013 7:13 صبح
خوب ہے جناب
یوسف-2 — مارچ 6، 2013 7:19 صبح
پہلے تجدید وفا کا کوئی امکان تو تھا
اب تو عادت سی ہے دن رات کھلا در رکھنا
واہ کیا بات ہے جناب۔ بہت عمدہ
باباجی — مارچ 6، 2013 7:22 صبح
واہ بہت خوب راجا صاحب کیا ہی خوب کلام ہے
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
خود ستم ڈھا کے مرا نام ستمگر رکھنا
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 7:59 صبح
لاجواب
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
شکریہ سید زبیر صاحب، اور یہ حقیقت ہے کبھی کبھی انسان سے ایسا سجدہ ادا ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات کے لئے رشک کا باعث ہوتا ہے۔ اور اس وقت کی کیفیت ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ اللہ ہر مسلمان کو ایسا سجدہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:02 صبح
آج رستے میں مرے پھول بچھانے والے
یاد ہے مجھ کو ترا ہاتھ میں پتھر رکھنا

واہ واہ بہت ہی خوب امجد علی راجا
زندگی انسان کو بہت کچھ دکھاتی ہے، جسے دیکھ کر انسان بہت کچھ سیکھتا بھی ہے، لیکن وہ نظارہ اتنا اذیت ناک ہوتا ہے کہ بسسسسسسس۔ لیکن کیا کیجئے زندگی کا تو کام ہی سکھانا ہے :)
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:03 صبح
شکریہ
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:05 صبح
بہت خوب راجا صاحب۔ آپ کا فن روز بروز بلندی کی طرف مائل ہے۔ آسمان خیر منائے!
اب ہم اتنے بھی نالائق نہیں بھیا کہ کاشف عمران بھائی جیسے پختہ شاعر کی صحبت میں رہ کر بھی کچھ نہ سیکھ سکیں :)
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:07 صبح
امجد بھائی یہ تو کافی سیرئس پوئٹری ہے ۔۔رونی کھانی سی :confused:لیکن آپ نے اچھی ہی لکھی ہو گی :p
کوشش تو کی تھی کی اچھی غزل لکھی جائے لیکن آپ کے تبصرے کے بعد میں خود کچھ شک میں پڑ گیا ہوں :)
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:09 صبح
آداب عرض ہے وارث بھیا! تعریف کرن نال نال کدرے سیالکوٹ دا دیسی کیہو والا پتیسہ ہی پیجوادیو۔ ویسے پل ایک نال دیسی کیہو دیاں جلیبیاں وی چنگیاں ملدیاں نیں :)
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:10 صبح
پہلے تجدید وفا کا کوئی امکان تو تھا
اب تو عادت سی ہے دن رات کھلا در رکھنا
واہ کیا بات ہے جناب۔ بہت عمدہ
شکریہ یوسف بھیا!
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:10 صبح
واہ بہت خوب راجا صاحب کیا ہی خوب کلام ہے
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
خود ستم ڈھا کے مرا نام ستمگر رکھنا
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
آداب بابا جی۔
امجد علی راجا — مارچ 6، 2013 8:16 صبح
سید شہزاد ناصر بھیا! کہاں رہ گئے، تبصرہ نہیں فرمائیں گے کیا ;)
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 8:19 صبح
آپ کی شاعری کا سنجیدہ پہلو مجھے بہتر محسوس ہوا۔
زیرِ نظر غزل میں کچھ گنجائشیں ضرور موجود ہیں، تاہم عمدہ کوشش ہے۔
کچھ گزارشات پیش کروں گا، بارِ دگر دیکھ لوں۔
محمد یعقوب آسی — مارچ 6، 2013 8:31 صبح
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
خود ستم ڈھا کے مرا نام ستمگر رکھنا
شرارے رکھے نہیں جاتے، پھینکے یا اچھالے جا سکتے ہیں۔ ہاں کوئی آپ کے دل پر انگارے ضرور رکھ سکتا ہے۔ دوسرا مصرع بہت اچھا ہے۔
سرخ آنکھوں میں رہے اشک تری یادوں کے
کتنا مشکل ہے شراروں میں سمندر رکھنا
شعر اچھا ہے، اس کی جگہ بدل دیجئے۔ شرارے کا یکے بعد دیگرے متواتر دو شعروں میں آنا گرانی پیدا کر سکتا ہے۔
سیج پھولوں کی ہے گلشن ہے نہ خوشبو کوئی
عشق صحرا ہے قدم سوچ سمجھ کر رکھنا
مفہوم واضح ہے تاہم محسوس ہوتا ہے جیسے بیان میں کچھ کچا پن رہ گیا ہو۔ پہلا مصرع بہتر کیجئے، عمدہ شعر بنے گا۔
پہلے تجدید وفا کا کوئی امکان تو تھا
اب تو عادت سی ہے دن رات کھلا در رکھنا
دونوں مصرعوں میں رابطہ کمزور ہے۔ در کھلا رکھنا تجدیدِ وفا کے امکان کی امید ہی تو ہے، جب کہ شعر کا تقاضا اس امید کی نفی ہے۔ تجدیدِوفا مناسب ترکیب ہے یا تجدیدِعہدِوفا؟ یہ آپ پر موقوف ہے۔
آج رستے میں مرے پھول بچھانے والے
یاد ہے مجھ کو ترا ہاتھ میں پتھر رکھنا
اچھا شعر ہے، اگرچہ مضمون نیا نہیں۔
رشک سے یاد فرشتے بھی ہیں کرتے اب تک
بے خودی میں وہ ترے در پہ مرا سر رکھنا
اچھا ہے۔ پہلے مصرعے کو چست بنانے کی کوشش کر دیکھئے۔
کیا خبر پھر سے کہیں لوٹ نہ آئے راجا
اے مرے اہل ستم ہاتھ میں پتھر رکھنا
’’کیا خبر‘‘ اس میں کسی بات کے ہو گزرنے کا شائبہ زیادہ ہوتا ہے، نہ ہونے کی نسبت مثلاً ’’لوٹ ہی آئے راجا‘‘؟
فیصلہ بہر حال آپ کا مؤثر ہو گا۔ جو کچھ محسوس کیا، بلا تأمل عرض کر دیا۔
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%DB%81%DB%92-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%D8%B1%DB%92-%D8%AF%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7.60717/