تم لوٹ کے آجاؤ
ہم انتظار میں ہیں
اب بات کرو ہم سے
ہم انتظار میں ہیں
جب عمر ختم ہوگی
ہم موت سے کہ دیں گے
مت جان ہماری لو
ہم انتظار میں ہیں
پھر بہ نکلیں آنسو
سب لوگ کہیں گے یوں
تم لوٹ کے آجاؤ
ہم انتظار میں ہیں
الف عین — نومبر 3، 2005 4:12 صبح
فیصل آپ سے دو تین باتیں۔
پہلے تو یہ کہ مجھے اب تصویری اردو سے چڑ ہوتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اب میں اردو رائٹرس میں پوسٹ ہی نہیں کرتا اور نہ وہاں کی میلس زیادہ پابندی سے دیکھتا ہوں۔ اب جب آپ تحریری اردو کے فورم میں ہیں تو پھر تصویر چہ معنی دارد؟
دوسرے، آپ کی غزل جو یاہو گروپ میں تھی، وہ تو اچھی لگی مگر یہ نثری نظمیں ذرا میرے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔
تیسری یہ کہ آپ نے اس فورم میں پڑھا ہوگا کہ میں نے بلاگ کی شکل میں آن لائن جریدہ شروع کیا ہے۔ چناں چہ آپ اور دوسرے احباب بھی اس کے لئے اپنی تخلیقات بھیجیں۔۔ یونی کوڈ میں ہوں تو بہتر ہے ورنہ ان پیج میں ہی سہی۔ میرے جی میل کے پتے پبھیجیں جہاں اصل نام سے میرا اکاؤنٹ ہے یعنی:
aijazakhtar
زیک — نومبر 3، 2005 5:07 شام
فیصل نظم اچھی ہے مگر اگر آپ اسے تصویری اردو کی بجائے یونیکوڈ اردو میں لکھیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
فیصل عظیم فیصل — نومبر 5، 2005 9:51 صبح
جیسی آپ کی مرضی لیجئے برادران عزیزم تصویری اردو سے جان چھڑا دیتا ہوں میں آپکی اعجاز بھائی کا جریدہ دیکھنے کا اشتیاق ہے ۔ امید ہے کہ ربط لکھ کر مطالعے کا موقع عطا فرمائیں گے۔
الف عین — نومبر 5، 2005 10:34 صبح
آج کل بلاگر کام نہیں کر رہا ہے بلکہ گوگل کی ہر سروس ڈاؤن ہے، بہر حال لنک یہ ہے:
http:\\ijazobaid.blogspot.com
پی کے ٹن — جون 20، 2008 1:30 شام
تم جلدی سے مر جاؤ
ہم انتظار میں ہیں
اب ہاتھ نکالو ہم سے
ہم انتظار میں ہیں
جب انکم ختم ہوگی
ہم جاناں سے کہہ دیں گے
اب ہماری جان مت لو
ہم انتظار میں ہیں
پھر باہر نکلیں الو
سب گدھ کہیں گے یوں
تم بینک لوٹ کے آجاؤ
ہم انتظار میں ہیں
مغزل — جون 27، 2008 8:14 صبح
بہت خوب فیصل صاحب۔
کیا خوب ، کیا خوب واہ۔
زبیر حسین — ستمبر 23، 2008 6:07 صبح
بہت خوب
فیصل بھائی
انتظار کی کیفیت کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔
مغزل — ستمبر 23، 2008 6:33 صبح
فیصل اب آجاؤ
ہم انتظار میں ہیں
فیصل عظیم فیصل — ستمبر 24، 2008 12:24 صبح
فیصل تو یہیں پر ہے
تم کس کو ڈھونڈتے ہو
یہ بات حقیقت ہے
بس خود کو ڈھونڈتے ہو
وہ شخص نہ ہو جس کو
اپنا ہی پتہ اب تک
تم اس کو ڈھونڈتے ہو
تم کس کو ڈھونڈتے ہو
ایم اے راجا — اکتوبر 8، 2008 7:33 شام
واہ واہ قریشی صاحب
عمران القادری — فروری 12، 2009 8:45 شام
خوبصورت لکھا ہے۔
محمد نعمان — فروری 14، 2009 4:12 صبح
میں یہاں بھی دیر سے پہونچا۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے فیصل بھیا آپ بڑی روانی سے شعر کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور دھاگوں میں پڑھ چکا ہوں۔