انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام
حالاں کہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام صیاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں
میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹے ہیں پر تمام کب سے بلا رہا ہوں مدد کے لیے انہیں
کس سوچ میں پڑے ہیں مرے چارہ گر تمام جتنے بھی معتبر تھے وہ نامعتبر ہوئے
رہزن بنے ہوئے ہیں یہاں راہبر تمام دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں
ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام (عمران شناور)
فاتح — اکتوبر 8، 2009 10:11 صبح
سبحان اللہ! کیا ہی عمدہ غزل کہی ہے۔ مبارک باد قبول کیجیے۔
مقطع میں "تمام" کا منفرد استعمال دلچسپ ہے۔
فرخ منظور — اکتوبر 8، 2009 10:36 صبح
واہ واہ! خوبصورت غزل ہے عمران صاحب!
محمود احمد غزنوی — اکتوبر 8، 2009 11:45 صبح
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام
آصف شفیع — اکتوبر 8، 2009 12:28 شام
بہت خوب، نہایت عمدہ غزل ہے۔
شاہ حسین — اکتوبر 8، 2009 12:48 شام
بہت خوب جناب عمران صاحب عمدہ غزل ہوئی ہے ۔
محمد وارث — اکتوبر 8، 2009 4:33 شام
خوبصورت غزل ہے، سبھی اشعار اچھے ہیں عمران صاحب! دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں
ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام واہ واہ واہ، کیا خوبصورت بات ہے، کیا لاجواب شعر ہے، بہت خوب!
ابن سعید — اکتوبر 8، 2009 4:51 شام
لا جواب! زبردست!
الف عین — اکتوبر 8، 2009 6:21 شام
واہ، اچھی غزل ہے عمران۔۔
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 8، 2009 11:35 شام
ماشاءاللہ بہت خوب
عمران بھائی آپ بہت خوش قسمت ہو مبارک ہو
ش زاد — اکتوبر 9، 2009 7:59 شام
واہ واہ واہ کیا عمدہ غزل ہے اور مقطع تہ کیا ہی جاندار ہے واہ واہ
عمران شناور — اکتوبر 10، 2009 6:27 صبح
جناب فاتح۔ جناب سخنور۔ جناب محمود غزنوی۔ جناب آصف شفیع۔ جناب شاہ110۔ جناب وارث۔ جناب ابن سعید۔ جناب اعجاز عبید۔ جناب خرم شہزاد خرم اور جناب ش زاد
آپ تمام احباب کی محبتوں کا بے حد شکریہ