۔۔۔صبح بخیر۔۔۔
میں بہت حیران ہوں
اپنی ذات کی تمام گہرائیوں تک
کہ میں اور تو اس ساعت تک
آخر کرتے رہے کیا کچھ
جو ہماری چاہتوں کی ابتدا تھی؟
کیا ہم ماں کی چھاتیوں سے لگے
معصوم بچے تھے؟
معمولی خوشیوں کے ہم راہی بے شعور بچے؟
یا پھر ہم اصحابِ کہف کے سنگ
نیند کی وادیوں میں گم تھے
ہوش و ادراک سے دیگر
ان کی غار میں پنہاں؟
یہ سب کچھ یوں ہی تھا
اور کچھ نہ تھا سوا اس کے
کہ ہر لذت تخیل تھی محض اوہام کا
اور یہ کہ اگر یوں ہی
میں کسی حسن سے آشنا بھی ہوا
جسے چاہا بھی اور پایا بھی
وہ کچھ نہ تھا سوا تیرے تخیل کے
اور اب ہم صبح بخیر کہتے ہیں
اپنی بیدار ہوتی روحوں کو
جو بے خوف نظروں سے
والہانہ طور اک دوجے کو تکتی ہیں
یوں کہ عشق ہر لطفِ بصارت پر مقدم ہے
ہاں کہ جانے دو سمندر کے جویاؤں کو
نئی دنیاؤں کی جانب
ہاں کہ چھوڑ دو ان کو کہ دکھلاتے رہیں
نت نئی دنیائیں دنیا کے نقشے پر
آ کہ ہم کریں بادشاہی اپنے جہانوں پر
انہیں یک جان کر دیں یوں
کہ تری نظروں میں مرِا چہرہ
اور ترا چہرہ میری نظروں میں ابھر آئے
اور دو باوفا دل ان چہروں پر دھڑکتے ہوں
کہ کہاں پائیں گے ہم ان کے سوا
ایسی مثالی دنیائیں
جہاں منجمد شمال نہ ہو
اور نہ ہی مغربین کا غم
کہ اس عالم فنا میں
جو کچھ بھی فنا ہوتا ہے
وہ فنا ہوتا ہے عناصر کی پریشانی سے
تو پھرگر ہماری محبت میں
افتراق نہ ہو
کہ ہم اک دوجے کو چاہیں
یک جان و دو قالب ہو کر
مثلِ ترتیب عناصر
تو پھر ہم ہو جائیں گے
مرض موت سے آزاد اور امر
ابد تا ابد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: صرییرِ خامہ ءِ عاصمؔ
1995