اُداس لمحوں کو آخر تمام کر دوں گا۔

ملک حبیب — فروری 19، 2015 12:17 صبح
اُداس لَمحوں کو آخر تَمام کر دُوں گا
تِرے خَیال کی دُنیا میں شام کر دُوں گا
بس ایک جان ہی باقی تھی آج اُس کو بھی
میں درد بیچنے والوں کے نام کر دُوں گا
جِسے یہ زُعم کہ رکھتا ہے آنکھ میں مستی
نَظر سے اُس کو گِرا کر غُلام کر دُوں گا
تِری یہ سوچ نہ بَدلی تو یاد رکھ واعظ
حَرم میں رِند کو لا کر اِمام کر دُوں گا
اَزل کے روز سے اب تک جو راز ہے مولا
میں کھولنے پہ جو آیا تو عام کر دُوں گا
حبیب مجھ کو سَتا کر نہ چَین پاؤ گے
قَسم خُدا کی میں جِینا حَرام کَر دُوں گا
کلام ملک حبیب​
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 19، 2015 2:17 صبح
خوبصورت کلام۔ بہت داد قبول فرمائیے
محمد وارث — فروری 19، 2015 4:48 صبح
خوب غزل ہے ملک صاحب
نذر حسین ناز — فروری 19، 2015 11:44 صبح
واہ کیا جارحانہ انداز ہے ۔۔"قَسم خُدا کی میں جِینا حَرام کَر دُوں گا" بہت خوب۔۔
نظام الدین — فروری 19، 2015 12:12 شام
جِسے یہ زُعم کہ رکھتا ہے آنکھ میں مستی
نَظر سے اُس کو گِرا کر غُلام کر دُوں گا
بہت خوب ۔۔۔۔۔ زبردست ۔۔۔ واہ
ملک حبیب — فروری 19، 2015 12:39 شام
احباب کا مشکور ہوں،،،،،،، جزاکم اللہ خیر
محمداحمد — فروری 19، 2015 12:55 شام
بہت خوب محترم !
خوش رہیے۔
x boy — فروری 19، 2015 1:58 شام
بہت اعلی جناب ملک حبیب صاحب اور ہمیشہ کی طرح۔
ملک حبیب — فروری 19، 2015 6:51 شام
متشکرم
الف عین — فروری 22، 2015 6:41 صبح
خوب۔ اچھی غزل ہے
ملک حبیب — فروری 23، 2015 5:49 شام
شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%8F%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%D9%84%D9%85%D8%AD%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%D9%88%DA%BA-%DA%AF%D8%A7%DB%94.80407/