اُلجھے ہوئے لفظوں کے معانی کی طرح ہوں ( غزل )

اشرف نقوی — اپریل 16، 2015 2:57 شام
اُلجھے ہوئے لفظوں کے معانی کی طرح ہوں
میں شہرِ محبت میں کہانی کی طرح ہوں
اُتری ہے کوئی شام مضافاتِ بدن میں
دوچار گھڑی لمحہء فانی کی طرح ہوں

دریا میں بہاؤ ہے مِرا آب کی صورت
صحرا میں سرابوں کی روانی کی طرح ہوں
تجھ کو بھی کوئی کام نہیں حُسنِ عمل سے
اور میں بھی تِری شعلہ بیانی کی طرح ہوں
سہما ہوا رہتا ہوں سدا ذات میں اپنی
خوشبو میں مگر رات کی رانی کی طرح ہوں
دُھندلا دیے ہیں وقت نے میرے بھی خدو خال
تصویرِ شکستہ وپرانی کی طرح ہوں
اشرف ہو کسی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو
نمکین کسی بحر کے پانی کی طرح ہوں
اشرف نقوی
نذر حسین ناز — اپریل 17، 2015 4:12 صبح
بہت اعلٰی ۔ بہت سی داد۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2015 4:53 صبح
بہت خوبصورت
آوازِ دوست — اپریل 17، 2015 6:21 صبح
بہت خوب نقوی صاحب
نظام الدین — اپریل 17، 2015 11:35 صبح
خوبصورت غزل کے لئے ڈھیروں داد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%8F%D9%84%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%84%D9%81%D8%B8%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84.81387/