اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 30، 2015 5:30 صبح
اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا
قرض کتنا نئے گھر پر ہے پرانے گھر کا
چین سے سوتا ہوں یادوں کا بنا کر تکیہ
راس اب تک مجھے بستر ہے پرانے گھر کا
دوستو !میں تو نہیں بدلا ہوں گھر بدلا ہے
نئی چوکھٹ میں کُھلا در ہے پرانے گھر کا
نئی بستی کا کبھی نقطہء آغاز تھا یہ
شہر کے بیچ جو منظر ہے پرانے گھر کا
اِس نئے شہر کے موسم سے بہت ڈرتا ہے
آدمی جو مرے اندر ہے پرانے گھر کا
ویسے تو خوش نظر آتا ہے نئےگھر میں ظہیر
تذکرہ باتوں میں اکثر ہے پرانے گھر کا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۸
ٹیگ: سید عاطف علی محمد تابش صدیقی فاتح کاشف اختر
محمد تابش صدیقی — دسمبر 30، 2015 5:34 صبح
اِس نئے شہر کے موسم سے بہت ڈرتا ہے
آدمی جو مرے اندر ہے پرانے گھر کا
ویسے تو خوش نظر آتا ہے نئےگھر میں ظہیر
تذکرہ باتوں میں اکثر ہے پرانے گھر کا
بہت عمدہ، کیا کہنے
سید اسد معروف — دسمبر 30، 2015 6:42 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔ کیا کہنے
لگتا ہے نئے گھر کو آٹھ سال ہو گئے ہوںگے:):):)
الف عین — دسمبر 30، 2015 10:38 شام
بہت اچھے!!!
سید ذیشان — دسمبر 31، 2015 12:29 صبح
بہت خوب ظہیر صاحب.
ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 2:30 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی۔ کیا کہنے
لگتا ہے نئے گھر کو آٹھ سال ہو گئے ہوںگے:):):)

سید بھائی یہ پرانا گھر تو ایک علامتی سی بات تھی ۔ ویسے گھر تو یہاں اب تک تین بدل چکے ہیں۔ اور یہ عام سی بات ہے یہاں نوواردوں کیلئے۔ :)
ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 2:31 صبح
سید ذیشان بھائی ، بہت بہت شکریہ ۔ بہت نوازش!
افضل حسین — جنوری 1، 2016 3:13 صبح
بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%90%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7.86780/