اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو

راحیل فاروق — اپریل 28، 2015 7:16 شام
اٹھ چلے ہاتھ لگاتے ہوئے سب کانوں کو
بولنے ہی نہ دیا تم نے تو دیوانوں کو
گرچہ مشہور ہیں یوں بھی مری دیوانگیاں
آپ کے نام سے پر لگتے ہیں افسانوں کو
کون دے مجھ کو دعا، میری دوا کون کرے
عشق کا درد نہ اپنوں کو نہ بیگانوں کو
تیری دنیا میں محبت کی کمی ہے ورنہ
کسی جنت کی ضرورت نہ تھی انسانوں کو
اب جو ساقی سے بگاڑی ہے تو راحیلؔ میاں
آپ بھرتے ہوئے دیکھا کریں پیمانوں کو
ندیم مراد — اپریل 29، 2015 1:24 صبح
کیا غزل خوب کہی آپ نے راحیل میاں
اک نئی طرز سکھائی ہے غزل خوانوں کو
الف عین — اپریل 29، 2015 7:51 صبح
خوب۔ ماشاء اللہ
راحیل فاروق — مئی 11، 2015 4:15 شام
شکریہ، مرشدی!
راحیل فاروق — مئی 11، 2015 4:15 شام
کیا غزل خوب کہی آپ نے راحیل میاں
اک نئی طرز سکھائی ہے غزل خوانوں کو
داد کی داد، بندہ پرور۔
ہما حمید ناز — مئی 12، 2015 5:26 شام
اچھی غزل ہے ! اس کے اختصار کی وجہ سے کچھ تشنگی سی محسوس ہوتی ہے - کچھ اور اشعار نکالئے اس میں ۔ :)
مطلع کا پہلا مصرع پسند نہیں آیا ۔ اٹھ چلے ہاتھ کی وجہ سے کچھ تعقید پیدا ہورہی ہے ۔ ویسے پورا مصرع ہی کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہا۔ معذرت !
راحیل فاروق — مئی 13، 2015 11:17 صبح
مطلع کا پہلا مصرع پسند نہیں آیا ۔ اٹھ چلے ہاتھ کی وجہ سے کچھ تعقید پیدا ہورہی ہے ۔ ویسے پورا مصرع ہی کچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہا۔ معذرت !
معذرت تو میری بنتی تھی۔ چلیں، آپ نے کر لی۔ اچھا لگا۔ :bashful:
کچھ اور اشعار نکالئے اس میں ۔
گویم مشکل وگر نگویم مشکل۔ پرانی ہے یہ غزل۔ اشعار خود بخود نکل آئے تھے۔ اب نہ نکلیں گے۔ اس پر بھی میری معذرت بنتی ہے ویسے۔ :D
نمرہ — مئی 13، 2015 4:34 شام
عشق کا درد نہ اپنوں کو نہ بیگانوں کو۔ واہ!
جاسمن — اپریل 6، 2016 7:26 صبح
واہ بہت خوب!
قمرآسی — اپریل 7، 2016 4:10 شام
واااہ صاحب ۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ غزل کہی۔۔۔۔داد حاضر ہے
یوسف سلطان — اپریل 7، 2016 4:35 شام
کون دے مجھ کو دعا، میری دوا کون کرے
عشق کا درد نہ اپنوں کو نہ بیگانوں کو
بہت خوب
نایاب — اپریل 7، 2016 4:41 شام
واہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت دعائیں
اب جو ساقی سے بگاڑی ہے تو راحیلؔ میاں
آپ بھرتے ہوئے دیکھا کریں پیمانوں کو
راحیل فاروق — اکتوبر 20، 2016 4:41 شام
ایک دوست کا محبت بھرا ڈیزائن۔۔۔
Ww6dbW3.jpg
عثمان قادر — اکتوبر 20، 2016 4:46 شام
تیری دنیا میں محبت کی کمی ہے ورنہ
کسی جنت کی ضرورت نہ تھی انسانوں کو
بہت عمدہ لاجواب
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 20، 2016 4:46 شام
کون دے مجھ کو دعا، میری دوا کون کرے
عشق کا درد نہ اپنوں کو نہ بیگانوں کو
خوب کہا
مریم افتخار — اکتوبر 20، 2016 5:03 شام
گرچہ مشہور ہیں یوں بھی مری دیوانگیاں
آپ کے نام سے پر لگتے ہیں افسانوں کو
تیری دنیا میں محبت کی کمی ہے ورنہ
کسی جنت کی ضرورت نہ تھی انسانوں کو
:notworthy::notworthy::notworthy::notworthy::notworthy::notworthy:
فیضان قیصر — نومبر 27، 2016 7:23 صبح
راحیل بھائی دیکھ لیں آج آپکی تمام غزلیں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر پڑھ رہا ہوں ۔ آپکے اندازِ بیاں نے گرویدہ کرلیا۔
حسرت جاوید — مئی 13، 2021 3:53 شام
تیری دنیا میں محبت کی کمی ہے ورنہ
کسی جنت کی ضرورت نہ تھی انسانوں کو
واہ۔
محمد شکیل خورشید — مئی 18، 2021 7:31 صبح
بہت خوبصورت

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%B9%DA%BE-%DA%86%D9%84%DB%92-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D9%84%DA%AF%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B3%D8%A8-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88.81615/