اپنی تو ہجرتوں کے مقدر عجیب ہیں

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 26، 2016 5:21 صبح
غزل
اپنی تو ہجرتوں کے مقدر عجیب ہیں
اپنے ہی شہر میں ہیں نہ غربت نصیب ہیں
اب اعتبار کس کا کریں الجھنوں کے بیچ
باتیں ہیں دوستانہ سی لہجے رقیب ہیں
چارہ گروں کے طرزِ جراحت کا شکریہ !
آزار اب مری رگِ جاں کے قریب ہیں
مٹی سے تیری دور ہیں لیکن ہیں تجھ سے ہم
ہم بھی تو اے وطن ترے شاعر ادیب ہیں
ظہیراحمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۵​
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 5:29 صبح
اپنی تو ہجرتوں کے مقدر عجیب ہیں
اپنے ہی شہر میں ہیں نہ غربت نصیب ہیں
کیا کہنے کیا کہنے ظہیر بھائی ، آج تو یوم الحجرہ ہو گیا۔۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 26، 2016 5:48 صبح
بہت عمدہ ظہیر بھائی، لاجواب۔
اب اعتبار کس کا کریں الجھنوں کے بیچ
باتیں ہیں دوستانہ سی لہجے رقیب ہیں

مٹی سے تیری دور ہیں لیکن ہیں تجھ سے ہم
ہم بھی تو اے وطن ترے شاعر ادیب ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1-%D8%B9%D8%AC%DB%8C%D8%A8-%DB%81%DB%8C%DA%BA.92121/