اپنے پہلے شعری مجموعے " روپ کا کندن " سے ایک غزل احباب کی نذر

منیر انور — مارچ 16، 2013 4:08 شام
کٹی پتنگ کی مانند ڈولتے ہو تم
مجھے وطن سے نکالے گئے لگے ہو تم
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم
فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں
کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم
کوئی امید نہ وعدہ نہ حوصلہ کوئی
یقین ہی نہیں آتا چلے گئے ہو تم
تمہارے روپ کا کندن بتا رہا ہے ہمیں
کسی کی آگ میں اک عمر تک جلے ہو تم
سکوں کا ایک بھی لمحہ نہیں نصیب انور
مرا خیال ہے محور سے ہٹ گئے ہو تم
منیر انور
سید ذیشان — مارچ 16، 2013 4:16 شام
بہت خوب جناب۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 16، 2013 4:19 شام
کٹی پتنگ کی مانند ڈولتے ہو تم
مجھے وطن سے نکالے گئے لگے ہو تم
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم
فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں
کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم
کوئی امید نہ وعدہ نہ حوصلہ کوئی
یقین ہی نہیں آتا چلے گئے ہو تم
تمہارے روپ کا کندن بتا رہا ہے ہمیں
کسی کی آگ میں اک عمر تک جلے ہو تم
سکوں کا ایک بھی لمحہ نہیں نصیب انور
مرا خیال ہے محور سے ہٹ گئے ہو تم
منیر انور
بہت خوب جناب بہت ہی اعلیٰ۔
ایک مرتبہ اور:
کٹی پتنگ کی مانند ڈولتے ہو تم
مجھے وطن سے نکالے گئے لگے ہو تم
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم
فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں
کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم
کوئی امید نہ وعدہ نہ حوصلہ کوئی
یقین ہی نہیں آتا چلے گئے ہو تم
تمہارے روپ کا کندن بتا رہا ہے ہمیں
کسی کی آگ میں اک عمر تک جلے ہو تم
سکوں کا ایک بھی لمحہ نہیں نصیب انور
مرا خیال ہے محور سے ہٹ گئے ہو تم
منیر انور
جزاکم اللہ خیرا۔:)
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
واہ، مزہ آگیا۔ کیا کہنے ہیں!!!
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 16، 2013 4:21 شام
بہت عمدہ غزل۔ کیا بات ہے
الف عین — مارچ 16، 2013 6:04 شام
بہت خوب منیر انور صاحب۔ مکمل مجموعہ بھی مجھے نذر کر دیں نا!! آسی بھائی سے میرا ای میل لے لیں اور اس کی سافٹ کاپی بھجوا دیں برقی کتابوں کے لئے۔
محمد وارث — مارچ 17، 2013 4:23 شام
خوب غزل ہے منیر صاحب، اور یہ شعر تو بہت پسند آیا
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر​
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم​
واہ واہ​
منیر انور — مارچ 20، 2013 2:08 شام
بہت خوب منیر انور صاحب۔ مکمل مجموعہ بھی مجھے نذر کر دیں نا!! آسی بھائی سے میرا ای میل لے لیں اور اس کی سافٹ کاپی بھجوا دیں برقی کتابوں کے لئے۔

بہت شکریہ جناب الف عین صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔ انشااللہ +پ کو بھجواوں گا برقی کاپی ۔۔ کچھ ہی دنوں مین امید ہے ای بک تیار ہو جا$ے گی ۔۔۔۔ اس توجہ کے لئے ممنون ہوں
منیر انور — مارچ 20، 2013 2:10 شام
تمام محترم دوستوں کا اس پذیرائی پر ممنون ہوں ۔۔۔ بہت نوازش ۔۔۔
محسن وقار علی — مارچ 20، 2013 4:14 شام
یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے
قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم
کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر
یہ کس خمار میں ، کس سمت کو چلے ہو تم
تمہارے روپ کا کندن بتا رہا ہے ہمیں
کسی کی آگ میں اک عمر تک جلے ہو تم
بہت خوب:applause:
شریک محفل کرنے کا شکریہ انکل:bighug:
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 5، 2018 7:45 صبح
فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں
کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم
زبردست بہت بہت اعلی ،
قبلہ محمد وارث صاحب ہم یہ شعر آپ کو ہدیہ تبرک کرتے ہیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%B4%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AC%D9%85%D9%88%D8%B9%DB%92-%D8%B1%D9%88%D9%BE-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%D9%86%D8%AF%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.61140/