نذر حسین ناز — اکتوبر 20، 2016 8:50 شام
اپنے ہی گھر کے دروبام سے جھگڑا کر کے
میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے
جاؤ تم خواب کنارے پہ لگاؤ خیمے
میں بھی آتا ہوں ذرا شام کو چلتا کر کے
پہلے پہلے یہاں جنگل تھا گھنیرا جنگل
کاٹنے والوں نے چھوڑا اسے رستہ کر کے
وہ شب و روز، مہ و سال، وہ بکھرے لمحے
آپ کہیے تو اٹھا لاتا ہوں یکجا کر کے
ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں
بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے
عشق منصوبہ بنا کر نہیں ہوتا ہر گز
شعر لکھا نہیں جاتا ہے ارادہ کر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نذر حُسین ناز
راحیل فاروق — اکتوبر 20، 2016 8:56 شام
داد کے لیے الفاظ نہیں۔
رشک آ رہا ہے آپ پر بس!



نذر حسین ناز — اکتوبر 20، 2016 8:57 شام
داد کے لیے الفاظ نہیں۔
رشک آ رہا ہے آپ پر بس!


بھائی آپ کی محبت کا بے حد شکریہ، بہت دعائیں۔ آباد رہیں
نوید ناظم — اکتوبر 20، 2016 9:03 شام
واہ واہ۔۔۔۔ سبحان اللہ۔
فاخر رضا — اکتوبر 20، 2016 9:20 شام
ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں
بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے
قلم توڑ دیا آپ نے. آفرین ہو. بہت خوب. ماشاءاللہ. ہمیشہ خوش رہیں.
نذر حسین ناز — اکتوبر 22، 2016 11:44 صبح
قلم توڑ دیا آپ نے. آفرین ہو. بہت خوب. ماشاءاللہ. ہمیشہ خوش رہیں.
عزت افزائی کے بہت شکریہ محترم بھائی۔ آباد رہیں۔ آمین
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 22، 2016 12:33 شام
بہت عمدہ جناب.
کیا کہنے
الف عین — اکتوبر 23، 2016 8:09 شام
کیا اچھی غزل ہے، بہت سی داد۔
ابن رضا — اکتوبر 23، 2016 8:11 شام
بہت عمدہ بہت سی داد قبولیے
اَبُو مدین — اکتوبر 23، 2016 8:22 شام
لاجواب۔ کیا ہی کہنے۔ ڈھیروں داد اور دعائیں قبول فرمائیے۔
علی امان — اکتوبر 30، 2016 2:29 شام
ماشاءاللہ، آپ میں اچھی صلاحیت ہے۔
علی چشتی — اکتوبر 30، 2016 3:41 شام
واہ واہ کیا ہی خوب جناب...
دو اشعار تو حاصل کلام ہیں بھائی.. کمال
ہم فقیروں کے لیے شاہ و گدا ایک سے ہیں
بات کرنا بھی تو لہجہ ذرا دھیما کر کے
عشق منصوبہ بنا کر نہیں ہوتا ہر گز
شعر لکھا نہیں جاتا ہے ارادہ کر کے
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 30، 2016 3:46 شام
ثامر شعور — نومبر 4، 2016 8:15 شام
بہت خوب! کمال کر دیا جناب!
کاشف اسرار احمد — نومبر 7، 2016 5:19 صبح
بہت عمدہ۔ واہ واہ ۔۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔
خوب غزل ہے حسین صاحب
محمداحمد — نومبر 12، 2016 1:22 شام
واہ واہ واہ
کیا ہی خوبصورت غزل ہے نذر بھائی!
ڈھیروں داد اس لاجواب کلام کے لئے۔
خوش رہیے۔

ظہیراحمدظہیر — نومبر 17، 2016 4:01 شام
واہ واہ وا!! کیا خوبصورت غزل ہے ! بہت عرصے بعد آپ کا کلام پڑھا
نذر حسین ناز صاحب!
اپنے ہی گھر کے درو بام سے جھگڑا کرکے
میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے
کیا اچھا مطلع ہے ! بہت عمدہ!
نذر حسین ناز — فروری 5، 2017 7:41 شام
حوصلہ بڑھانے والے تمام احباب کا بے حد شکریہ ۔ سلامتی ہو آپ سب پر
ہادیہ — فروری 5، 2017 7:52 شام
اعلیٰ۔۔۔زبردست۔۔
فہد اشرف — فروری 6، 2017 2:20 صبح
بہت خوب جناب