اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا

ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:39 صبح
احبابِ کرام! اب کھُرچن کی باری آگئی ہے ۔ کچھ پرانی غزلیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر جھاڑ پونچھ کر ٹائپ کرلی ہیں اور یہاں پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں تو انہیں شائع کرنے کے بارے میں متردد تھا لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ چنانچہ تیس سال پرانی یہ غزل پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۰
محمداحمد — نومبر 16، 2020 5:44 صبح
واہ واہ واہ!
بہت خوب ظہیر بھائی!
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیا بات ہے!
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
واہ!
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات!
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا

بہت خوب!
بہت سی داد!
اور شکریہ تابش بھائی کا کہ جنہوں نے خزانے کی دریافت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 16، 2020 6:51 صبح
واہ کیا زبردست غزل
یہ شعر لاجواب ہے بہت پسند آیا ۔
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2020 7:55 صبح
احبابِ کرام! اب کھُرچن کی باری آگئی ہے ۔ کچھ پرانی غزلیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر جھاڑ پونچھ کر ٹائپ کرلی ہیں اور یہاں پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں تو انہیں شائع کرنے کے بارے میں متردد تھا لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ چنانچہ تیس سال پرانی یہ غزل پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۰
خوبصورت خوبصورت! بہت اعلیٰ۔ کیا بات ہے۔
رومی — نومبر 16، 2020 7:57 صبح
نائس غزل
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 16، 2020 8:00 صبح
آئی وُڈ رادر سے بیوٹی فل گیزل!
سید عاطف علی — نومبر 16، 2020 8:04 صبح
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
واہ تخیل کا بے مثال دائرہ بنایا ہے ۔
زندگی کی عسرتوں کو آسانیوں سے محیط کرتا ہوا۔ :) ۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 16، 2020 8:12 صبح
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
بہت عمدہ اور لاجواب غزل
آخری شعر تو گویا تجربات کا نچوڑ ہے۔
لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی
میری حیثیت تو یہاں سورج کو دیا دکھانے کے مترادف ہے۔
محمداحمد — نومبر 16، 2020 9:48 صبح
میری حیثیت تو یہاں سورج کو دیا دکھانے کے مترادف ہے۔

ہم بھی کیا سادہ ہیں ۔۔۔ :)
ویسے ایموشنل بلیک میلنگ کے لئے سورج کو چراغ دکھانا بھی ایسی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ :)
بلیک میلنگ کے لئے ماڈرن دنیا میں کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ :thinking:
سیما علی — نومبر 16، 2020 9:50 صبح
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
بہت اعلیٰ
ظہیر بھائی ۔
ہم کہاں اس قابل آپ کے شایانِ شان تعریف کرسکیں۔
بہت ساری دعائیں ۔۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:36 شام
واہ واہ واہ!بہت خوب ظہیر بھائی
بہت بہت شکریہ احمد بھائی ! ان سادہ سے اشعار کی اس پذیرائی پر بہت ممنون ہوں ۔ اللہ شاد و آباد رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:37 شام
واہ کیا زبردست غزل
یہ شعر لاجواب ہے بہت پسند آیا ۔
نوازش! بہت شکریہ معان بھائی ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:39 شام
خوبصورت خوبصورت! بہت اعلیٰ۔ کیا بات ہے۔
شکریہ شکریہ ! بڑی نوازش ہے خلیل بھائی! قدر افزائی کے لئے ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:40 شام
بہت شکریہ رومی! اللہ آپ کو خوش رکھے!
بزمِ سخن میں خوش آمدید!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:46 شام
آئی وُڈ رادر سے بیوٹی فل گیزل!
کم پریس ، کم پریس!
!Come, press یعنی آداب!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:50 شام
واہ تخیل کا بے مثال دائرہ بنایا ہے ۔
زندگی کی عسرتوں کو آسانیوں سے محیط کرتا ہوا۔ :) ۔
آداب ، آداب! بہت نوازش عاطف بھائی! ذرہ نوازی ہے! آپ ہمیشہ عزت افزائی کرتے ہیں ۔ آپ دوستوں کی سخن فہمی اور کشادہ دلی ہی کشاں کشاں اس محفل میں لے آتی ہے ۔
اللہ کریم سلامت رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 4:58 شام
بہت عمدہ اور لاجواب غزل
آخری شعر تو گویا تجربات کا نچوڑ ہے۔
بہت شکریہ تابش بھائی! بہت نوازش! مقطع کے بارے میں آپ کا تبصرہ بالکل درست ہے ۔ ہم سب کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔
غزل دوبارہ پڑھوانے کے لئے معذرت! :):):)
میری حیثیت تو یہاں سورج کو دیا دکھانے کے مترادف ہے۔
کسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں آپ ورنہ آپ کی سخن فہمی اور ذوقِ سلیم کی گواہی تو ہر شخص دے گا ۔ اللہ سلامت رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:03 شام
ہم بھی کیا سادہ ہیں ۔۔۔ :)
ویسے ایموشنل بلیک میلنگ کے لئے سورج کو چراغ دکھانا بھی ایسی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ :)
بلیک میلنگ کے لئے ماڈرن دنیا میں کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ :thinking:
ایموشنل بلیک میلنگ کے لئے ماڈرن دنیا میں عموماً "آئی لَو یُو" کہا جاتا ہے ۔ (زبان باہر نکالنے والا شتونگڑہ)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:06 شام
ہم بھی کیا سادہ ہیں ۔۔۔ :)
ویسے ایموشنل بلیک میلنگ کے لئے سورج کو چراغ دکھانا بھی ایسی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ :)
بلیک میلنگ کے لئے ماڈرن دنیا میں کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ :thinking:
احمد بھائی ، ویسے بلیک میل کے لئے اردو میں خطِ اسود کیسا رہے گا؟:D
فاخر رضا — نومبر 16، 2020 5:09 شام
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا

بہت خوبصورت شعر ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D8%B7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7.113940/