انیس فاروقی — جون 8، 2009 5:50 شام
اِس دشتِ وفا میں تِرے آلام ہے کیسا
مسند سرِ مقتل ہو تو آرام ہے کیسا
جب خود ہی محبت کے بھرم توڑ دئے تھے
پھر اُن کی نگاہوں میں یہ پیغام ہے کیسا
رکھ کر سرِ نیزہ مرا سَر پوچھ رہے ہیں
اِس شہرِ غریباں میں یہ ہنگام ہے کیسا
سادہ ہے تری یاد سے یہ تختی ء دل بھی
ہر دم یہ زباں پر مری اک نام ہے کیسا
ہے میرے سُخن میں تِرے انداز کی خوشبو
ہم پر یہ انیس اِک نیا الزام ہے کیسا
الف عین — جون 8، 2009 6:07 شام
اچھی غزل ہے انیس۔ مبارک ہو۔
انیس فاروقی — جون 8، 2009 11:33 شام
اچھی غزل ہے انیس۔ مبارک ہو۔
آداب عرض، عنایت ہے آپ کی وگرنہ ہم کہاں اس لائق
خرم شہزاد خرم — جون 8، 2009 11:39 شام
بہت خوب جناب کیا بات ہے مبارک ہو ہماری طرف سے بھی
ہے میرے سُخن میں تِرے انداز کی خوشبو
ہم پر یہ انیس اِک نیا الزام ہے کیسا
عمران شناور — جون 9، 2009 5:44 صبح
بہت خوب انیس صاحب! بہت اچھے اشعار ہیں۔ شکریہ
مغزل — جون 9، 2009 5:53 صبح
اِس دشتِ وفا میں تِرے آلام ہے کیسا
مسند سرِ مقتل ہو تو آرام ہے کیسا
جب خود ہی محبت کے بھرم توڑ دئے تھے
پھر اُن کی نگاہوں میں یہ پیغام ہے کیسا
رکھ کر سرِ نیزہ مرا سَر پوچھ رہے ہیں
اِس شہرِ غریباں میں یہ ہنگام ہے کیسا
سادہ ہے تری یاد سے یہ تختی ء دل بھی
ہر دم یہ زباں پر مری اک نام ہے کیسا
ہے میرے سُخن میں تِرے انداز کی خوشبو
ہم پر یہ انیس اِک نیا الزام ہے کیسا
ماشااللہ ، بہت خوب جناب ، خوبصورت غزل پر مبارکباد قبول کیجیے ۔،
امید ہے آپ کا مزید کلام بھی لذت سمع و بصر کے لیے نصیب رہے گا۔
سدا خوش رہیںجناب ، والسلام
محمداحمد — جون 9، 2009 7:00 صبح
ماشاءاللہ بہت عمدہ غزل ہے، انیس صاحب۔
نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔
خوش رہیے۔
انیس فاروقی — جون 9، 2009 1:41 شام
ایک مرتبہ پھر تمام احباب کی حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
انیس فاروقی — جون 10، 2009 2:28 شام
ماشاءاللہ بہت عمدہ غزل ہے، انیس صاحب۔
نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔
خوش رہیے۔
آپ کی داد کا ایک بات پھر بہت شکریہ
ایم اے راجا — جون 10، 2009 6:00 شام
بہت خوب انیس صاحب واہ واہ