اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتھوں میں

ثامر شعور — دسمبر 15، 2013 2:32 صبح
اک ترے وصل کے موسم کے سوا ہاتھوں میں
مستقل کوئی بھی لمحہ نہ رہا ہاتھوں میں
تیری خواہش میں فقط ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتھوں میں
سوچ رکھا ہے تجھے دل میں بساؤں ایسے
جیسے ہوتا ہے مقدّر کا لکھا ہاتھوں میں
ساتھ چلنے سے بنا کرتے ہیں دل کے رشتے
کون ورنہ لئے پھرتا ہے وفا ہاتھوں میں
میں نے بانٹی تھی اجالوں کی تمنّا دل کو
لکھ دیا کس نے اندھیروں کا پتا ہاتھوں میں
جب بھی تقدیر سے ہٹ کر تجھے سوچا ہم نے
دل کا ہر خواب الجھتا ہی گیا ہاتھوں میں
عمر بھر پھر نہ اکیلا کبھی ہونے پایا
ہاتھ اک بار فقط اس نے دیا ہاتھوں میں
جیسے اک نام کے لکھنے سے مہک اٹھتی تھی
اب بھی کیا ویسے مہکتی ہے حنا ہاتھوں میں
چھین لے جائے نہ قسمت کی سیاہی ثامرؔ ؔ ؔ
مت لکیروں کی طرح اس کو چھپا ہاتھوں میں
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 17، 2013 9:00 صبح
کیا خوبصورت غزل ہے۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 2:57 شام
کیا خوبصورت غزل ہے۔ بہت بہت داد قبول فرمائیے جناب
بہت شکریہ محمد خلیل الرحمٰن صاحب
نایاب — دسمبر 17، 2013 4:17 شام
بہت خوب
تیری خواہش میں فقط ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتھوں میں
بہت شکریہ بہت دعائیں
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 4:49 شام
بہت خوب
تیری خواہش میں فقط ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتھوں میں
بہت شکریہ بہت دعائیں
بہت شکریہ ۔
سلمان حمید — دسمبر 17، 2013 5:03 شام
بہت عمدہ ثامر بھائی۔ بہت خوبصورت :)
جیسے اک نام کے لکھنے سے مہک اٹھتی ہے
اب بھی کیا ویسے مہکتی ہے حنا ہاتھوں میں
یہاں "ہے" کی جگہ "تھی" نہیں آنا چاہئیے؟ شاید مجھے غلط فہمی ہو :)
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 17، 2013 6:11 شام
ایسی غزلیں ہی لکھے جاؤ یہاں فورم پر
ہے نہ باتوں میں اثر ، جو ہے رکھا ہاتھوں میں
عبد الرحمن — دسمبر 17، 2013 6:26 شام
ماشاء اللہ بہت عمدہ!
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 6:29 شام
بہت عمدہ ثامر بھائی۔ بہت خوبصورت :)
جیسے اک نام کے لکھنے سے مہک اٹھتی ہے
اب بھی کیا ویسے مہکتی ہے حنا ہاتھوں میں
یہاں "ہے" کی جگہ "تھی" نہیں آنا چاہئیے؟ شاید مجھے غلط فہمی ہو :)
بہت شکریہ سلمان حمید بھائی ۔ آپ نے ٹھیک نشاندہی کی ہے۔ لکھنے میں غلطی ہو گئی
قیصرانی — دسمبر 17، 2013 7:07 شام
اس عمر میں اتنی پختہ شاعری؟ :)
عمر سیف — دسمبر 17، 2013 7:08 شام
بہت خوب ۔۔ واہ واہ ۔۔ نقل کر رہا ہوں ۔۔۔
تیری خواہش میں فقط ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتھوں میں
سوچ رکھا ہے تجھے دل میں بساؤں ایسے
جیسے ہوتا ہے مقدّر کا لکھا ہاتھوں میں
عمر بھر پھر نہ اکیلا کبھی ہونے پایا
ہاتھ اک بار فقط اس نے دیا ہاتھوں میں
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 7:34 شام
اس عمر میں اتنی پختہ شاعری؟ :)
قیصرانی صاحب اب آپ نے پختہ کہہ ہی دیا ہے تو۔۔
ہماری عمر نہ چہرے میں تم تلاش کرو
ہم ایک شام میں صدیوں کا جال رکھتے ہیں
:)ویسے یہ شاعری کوئی 13 سال پرانی ہے:)
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 7:34 شام
بہت خوب ۔۔ واہ واہ ۔۔ نقل کر رہا ہوں ۔۔۔
تیری خواہش میں فقط ہاتھ اٹھا لیتا ہوں
اور پھر خود ہی ابھرتی ہے دعا ہاتھوں میں
سوچ رکھا ہے تجھے دل میں بساؤں ایسے
جیسے ہوتا ہے مقدّر کا لکھا ہاتھوں میں
عمر بھر پھر نہ اکیلا کبھی ہونے پایا
ہاتھ اک بار فقط اس نے دیا ہاتھوں میں
بہت شکریہ
قیصرانی — دسمبر 17، 2013 7:35 شام
قیصرانی صاحب اب آپ نے پختہ کہہ ہی دیا ہے تو۔۔
ہماری عمر نہ چہرے میں تم تلاش کرو
ہم ایک شام میں صدیوں کا جال رکھتے ہیں
:)ویسے یہ شاعری کوئی 13 سال پرانی ہے:)
یعنی کہ آپ نے تصویر کے ساتھ بھی کچھ شاعری کی ہوئی ہے :p
ثامر شعور — دسمبر 17، 2013 7:40 شام
یعنی کہ آپ نے تصویر کے ساتھ بھی کچھ شاعری کی ہوئی ہے :p
نہیں نہیں تصویر تو ابھی کی ہے :lol: بس لکھنا کم ہو گیا تھا :)
الف عین — جنوری 4، 2014 4:35 شام
’سمت ‘ کے لئے منتخب۔
ثامر شعور — جنوری 4، 2014 4:47 شام
’سمت ‘ کے لئے منتخب۔
اعجاز صاحب آپ کی محبت کے لیے شکرگزار ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D9%88%D8%B5%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D8%B3%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D9%88%D8%A7-%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.70139/