اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ

عاطف ملک — اگست 3، 2020 8:28 صبح
محفل میں آنے جانے کے بہانے کے طور پر ایک کاوش محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید ایک آدھ شعر کسی کو پسند آجائے۔بہتری کیلیے کوئی صلاح ہو تو ضرور دیجیے گا۔
اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ
اتنی سی کہانی ہے اتنا سا ہے افسانہ
سب ہی سے تعلق ہے میرا تو رقیبانہ
ہر ایک ترا عاشق ہر اک ترا دیوانہ
ان مست نگاہوں سے اک بار پیا جس نے
کیا جام و سُبُو اس کو کیا اس کو ہو مے خانہ
سینے میں چھپایا ہے، ہونٹوں سے لگایا ہے
خارِ رہِ جانانہ، سنگِ در جانانہ
ہر سَمت تجھے ڈھونڈوں ہر اک سے ترا پوچھوں
پھر کیوں نہ کہے دنیا مجھ کو ترا دیوانہ
وہ صرف مِرا ہے اور میں صرف اسی کا ہوں
عاشق کے لبوں پر ہے یہ نعرۂِ مستانہ
اس چشمِ فسوں نے یوں مسحور کیا مجھ کو
ہر اک سے ہوں برگشتہ خود سے بھی ہوں بے گانہ
وہ خسروئے اعلیٰ ہے اقلیمِ محبت کا
کیونکر نہ ادائیں بھی پھر اس کی ہوں شاہانہ
گلشن میں گلِ رعنا لاکھوں ہیں مگر عاطفؔ
اس رشکِ بہاراں کا ہے رنگ جداگانہ

عاطفؔ ملک
جولائی ۲۰۲۰
نور وجدان — اگست 3، 2020 8:39 صبح
محفل میں آنے جانے کے بہانے کے طور پر ایک کاوش محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید ایک آدھ شعر کسی کو پسند آجائے۔بہتری کیلیے کوئی صلاح ہو تو ضرور دیجیے گا۔
اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ
اتنی سی کہانی ہے اتنا سا ہے افسانہ
سب سے ہی تعلق ہے میرا تو رقیبانہ
ہر ایک ترا عاشق ہر اک ترا دیوانہ
ان مست نگاہوں سے اک بار پیا جس نے
کیا جام و سُبُو اس کو کیا اس کو ہو مے خانہ
سینے میں چھپایا ہے، ہونٹوں سے لگایا ہے
خارِ رہِ جانانہ، سنگِ در جانانہ
ہر سَمت تجھے ڈھونڈوں ہر اک سے ترا پوچھوں
پھر کیوں نہ کہے دنیا مجھ کو ترا دیوانہ
وہ صرف مِرا ہے اور میں صرف اسی کا ہوں
عاشق کے لبوں پر ہے یہ نعرۂِ مستانہ
اس چشمِ فسوں نے یوں مسحور کیا مجھ کو
ہر اک سے ہوں برگشتہ خود سے بھی ہوں بے گانہ
وہ خسروئے اعلیٰ ہے اقلیمِ محبت کا
کیونکر نہ ادائیں بھی پھر اس کی ہوں شاہانہ
گلشن میں گلِ رعنا لاکھوں ہیں مگر عاطفؔ
اس رشکِ بہاراں کا ہے رنگ جداگانہ

عاطفؔ ملک
جولائی ۲۰۲۰
تمام اشعار ہی خوبصورت ہیں ، عجب رنگ لیے ہے یہ غزل
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 3، 2020 10:52 صبح
واہ بھیا کیا رنگ جمایا ہے
بہت عمدہ اور اعلی اشعار
زبردست غزل
ایس ایس ساگر — اگست 3، 2020 11:33 صبح
اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ
اتنی سی کہانی ہے اتنا سا ہے افسانہ
سب ہی سے تعلق ہے میرا تو رقیبانہ
ہر ایک ترا عاشق ہر اک ترا دیوانہ
ان مست نگاہوں سے اک بار پیا جس نے
کیا جام و سُبُو اس کو کیا اس کو ہو مے خانہ
سینے میں چھپایا ہے، ہونٹوں سے لگایا ہے
خارِ رہِ جانانہ، سنگِ در جانانہ
ہر سَمت تجھے ڈھونڈوں ہر اک سے ترا پوچھوں
پھر کیوں نہ کہے دنیا مجھ کو ترا دیوانہ
وہ صرف مِرا ہے اور میں صرف اسی کا ہوں
عاشق کے لبوں پر ہے یہ نعرۂِ مستانہ
اس چشمِ فسوں نے یوں مسحور کیا مجھ کو
ہر اک سے ہوں برگشتہ خود سے بھی ہوں بے گانہ
وہ خسروئے اعلیٰ ہے اقلیمِ محبت کا
کیونکر نہ ادائیں بھی پھر اس کی ہوں شاہانہ
گلشن میں گلِ رعنا لاکھوں ہیں مگر عاطفؔ
اس رشکِ بہاراں کا ہے رنگ جداگانہ
کیا کہنے عاطف بھائی۔ خوب غزل کہی ہے۔ماشااللہ۔
ثمین زارا — اگست 3، 2020 12:31 شام
خوب غزل ۔ ۔ ۔ ۔ ماشااللہ
عاطف ملک — اگست 3، 2020 3:44 شام
تمام اشعار ہی خوبصورت ہیں ، عجب رنگ لیے ہے یہ غزل
بہت شکریہ
واہ بھیا کیا رنگ جمایا ہے
بہت عمدہ اور اعلی اشعار
زبردست غزل
نوازش عدنان بھائی۔۔۔۔آپ ہمیشہ ہی ایسی محبت بھری پذیرائی سے نوازتے ہیں
کیا کہنے عاطف بھائی۔ خوب غزل کہی ہے۔ماشااللہ۔
بہت شکریہ بھیا
خوب غزل ۔ ۔ ۔ ۔ ماشااللہ
بہت نوازش
محمد احسن سمیع راحلؔ — اگست 4، 2020 9:02 صبح
اچھی غزل ہے ڈاکٹر صاحب، ماشاءاللہ
ریحان احمد ریحانؔ — اگست 4، 2020 10:27 صبح
بہت خوب عاطف صاحب
عاطف ملک — اگست 4، 2020 3:49 شام
اچھی غزل ہے ڈاکٹر صاحب، ماشاءاللہ
بہت شکریہ راحلؔ بھائی:)
بہت شکریہ جناب:)
Faizan ahmed — اگست 5، 2020 7:39 صبح
محفل میں آنے جانے کے بہانے کے طور پر ایک کاوش محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید ایک آدھ شعر کسی کو پسند آجائے۔بہتری کیلیے کوئی صلاح ہو تو ضرور دیجیے گا۔
اک حسن کی مورت کا اک دل ہے صنم خانہ
اتنی سی کہانی ہے اتنا سا ہے افسانہ
سب ہی سے تعلق ہے میرا تو رقیبانہ
ہر ایک ترا عاشق ہر اک ترا دیوانہ
ان مست نگاہوں سے اک بار پیا جس نے
کیا جام و سُبُو اس کو کیا اس کو ہو مے خانہ
سینے میں چھپایا ہے، ہونٹوں سے لگایا ہے
خارِ رہِ جانانہ، سنگِ در جانانہ
ہر سَمت تجھے ڈھونڈوں ہر اک سے ترا پوچھوں
پھر کیوں نہ کہے دنیا مجھ کو ترا دیوانہ
وہ صرف مِرا ہے اور میں صرف اسی کا ہوں
عاشق کے لبوں پر ہے یہ نعرۂِ مستانہ
اس چشمِ فسوں نے یوں مسحور کیا مجھ کو
ہر اک سے ہوں برگشتہ خود سے بھی ہوں بے گانہ
وہ خسروئے اعلیٰ ہے اقلیمِ محبت کا
کیونکر نہ ادائیں بھی پھر اس کی ہوں شاہانہ
گلشن میں گلِ رعنا لاکھوں ہیں مگر عاطفؔ
اس رشکِ بہاراں کا ہے رنگ جداگانہ

عاطفؔ ملک
جولائی ۲۰۲۰
کیا کہنے
خوبصورت غزل
ظہیراحمدظہیر — اگست 5، 2020 10:49 شام
واہ! بہت خوب! ایک اور اچھی غزل ، عاطف !
مطلع اورآخری دو اشعار اچھے ہیں ۔
عاطف بھائی ، ایک شعر میں آپ نے چشمِ فسوں کی ترکیب استعمال کی ہے ، یہ درست نہیں ۔ چشمِ فسوں ساز یا فسوں گر وغیرہ تو ٹھیک ہوگا لیکن چشمِ فسوں نہیں ۔ اس بارے میں کچھ دنوں پہلے کسی جگہ مفصل لکھا تھا ۔ اب یاد نہیں کہ کونسا دھاگا تھا ۔ اگر آپ تفصیل دیکھنا چاہیں تو ذرا سی تلاش پر مل جائے گا ۔
عاطف ملک — اگست 6، 2020 6:09 صبح
کیا کہنے
خوبصورت غزل
بہت شکریہ
واہ! بہت خوب! ایک اور اچھی غزل ، عاطف !
مطلع اورآخری دو اشعار اچھے ہیں ۔
بہت شکریہ ظہیر بھائی
عاطف بھائی ، ایک شعر میں آپ نے چشمِ فسوں کی ترکیب استعمال کی ہے ، یہ درست نہیں ۔ چشمِ فسوں ساز یا فسوں گر وغیرہ تو ٹھیک ہوگا لیکن چشمِ فسوں نہیں ۔ اس بارے میں کچھ دنوں پہلے کسی جگہ مفصل لکھا تھا ۔ اب یاد نہیں کہ کونسا دھاگا تھا ۔ اگر آپ تفصیل دیکھنا چاہیں تو ذرا سی تلاش پر مل جائے گا ۔
اس پہ احباب سے گفتگو ہوئی تھی۔اور مصرع بدل بھی دیا تھا۔لیکن شاید یہاں پرانا والا ہی رہ گیا۔اس کو یوں کر دیا تھا۔
اس چشمِ فسوں گر نے مسحور کیا ایسا
مدیران سے گذارش ہے کہ اس کی تدوین کردیں۔
محمد شکیل خورشید — اگست 6، 2020 7:28 صبح
اعلیٰ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%AD%D8%B3%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D8%AF%D9%84-%DB%81%DB%92-%D8%B5%D9%86%D9%85-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81.112676/