اک شخص شہر ِ ہجر میں گمنام مرگیا

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 29، 2019 4:38 صبح
ایک غزل آپ احبابِ ذوق کی خدمت میں پیش کرتا ہوں - شاید آپ کو کچھ اشعار پسند آجائیں ۔

اپنی متاعِ خواب مرے نام کرگیا
اک شخص شہر ِ ہجر میں گمنام مرگیا
ترکِ جنون کرکے بیاباں سے گھر گیا
بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا
اِس رقص ِگردبادِ غم ِ روزگار میں
ہر جامہء لحاظ بدن سے اتر گیا
سورج کو سر پہ لاد کے دن بھر چلا تھا میں
اُس کو فصیلِ شام پہ چھوڑا تو گھر گیا
شاخِ گلاب شعلہء لرزاں لگی مجھے
پروردہء خزاں تھا بہاروں سے ڈر گیا
اک حرفِ بے شرف کہ کوئی بولتا نہ تھا
بولا گیا تو شہر صداؤں سے بھر گیا
ہر جوہر ِحیات ہوا صرفِ اندمال
اک زخم بھرتے بھرتے مرا کام کر گیا
قدموں سے راستے گئے رہبر کی آس میں
رہبر ملے تو ہاتھ سے رختِ سفر گیا
جرم ِوفائے یار کے مجرم بھی ہم ہوئے
الزامِ خود سری بھی ہمارے ہی سر گیا
در پر ترے جھکے تو زمانہ ہوا خلاف
چھوٹا سا ایک کام بڑا نام کر گیا
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا
ایسے ملے سرابِ مسلسل کہ اب ظہیرؔ
تشنہ لبی تو ہے مگر احساس مر گیا
٭٭٭
ظہیر ؔ احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 2014​
محمد تابش صدیقی — ستمبر 29، 2019 6:10 صبح
اِس رقص ِگردبادِ غم ِ روزگار میں
ہر جامہء لحاظ بدن سے اتر گیا

اک حرفِ بے شرف کہ کوئی بولتا نہ تھا
بولا گیا تو شہر صداؤں سے بھر گیا

قدموں سے راستے گئے رہبر کی آس میں
رہبر ملے تو ہاتھ سے رختِ سفر گیا
جرم ِوفائے یار کے مجرم بھی ہم ہوئے
الزامِ خود سری بھی ہمارے ہی سر گیا
در پر ترے جھکے تو زمانہ ہوا خلاف
چھوٹا سا ایک کام بڑا نام کر گیا
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا

ایسے ملے سرابِ مسلسل کہ اب ظہیرؔ
تشنہ لبی تو ہے مگر احساس مر گیا
لاجواب ظہیر بھائی۔
مقطع میری خاص بیاض میں شامل۔ :)
جاسمن — ستمبر 29، 2019 7:15 صبح
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا
بہت خوب!
خوبصورت اشعار۔
فرحان محمد خان — ستمبر 29، 2019 1:29 شام
❤❤
احمد محمد — ستمبر 29، 2019 2:33 شام
سبحان اللّٰہ۔ بڑے بھائی چند اشعار کی پسندیدگی کی کیا بات کرتے ہیں، تمام اشعار ہی شاندار ہیں۔ عمدہ کلام پر ہم بے حد شکر گزار ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 29، 2019 6:45 شام
لاجواب ظہیر بھائی۔
مقطع میری خاص بیاض میں شامل۔ :)
آداب، نوازش ! تابش بھائی ۔ بہت مسرت ہوئی کہ آپ کو اشعار پسند آئے ۔ بہت شکریہ!
تابش بھائی ، یہ بیاضِ خاص کا کیا قصہ ہے؟ کیا آپ بھی میری طرح ڈائری میں چیزیں لکھ کے رکھتے ہیں ؟
بہت خوب!
خوبصورت اشعار۔
تشکر! بہت نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے !

بہت شکریہ ! فرحان بھائی ۔
سبحان اللّٰہ۔ بڑے بھائی چند اشعار کی پسندیدگی کی کیا بات کرتے ہیں، تمام اشعار ہی شاندار ہیں۔ عمدہ کلام پر ہم بے حد شکر گزار ہیں۔

نوازش! بہت شکریہ احمد! اس قدر افزائی پر ممنون ہوں ۔ اللہ ذوق سلامت رکھے۔
فرقان احمد — ستمبر 29، 2019 8:20 شام
بے پناہ داد! تعریف جس قدر بھی کر دی جائے ناکافی رہے گی۔ بہت اعلیٰ!
La Alma — ستمبر 29، 2019 8:50 شام
سورج کو سر پہ لاد کے دن بھر چلا تھا میں
اُس کو فصیلِ شام پہ چھوڑا تو گھر گیا

شاخِ گلاب شعلہء لرزاں لگی مجھے
پروردہء خزاں تھا بہاروں سے ڈر گیا

پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا
لاجواب۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 30، 2019 4:48 صبح
تابش بھائی ، یہ بیاضِ خاص کا کیا قصہ ہے؟ کیا آپ بھی میری طرح ڈائری میں چیزیں لکھ کے رکھتے ہیں ؟
میری بیاضِ خاص بس ذہن کے ہی ایک گوشہ میں موجود ہے۔ کچھ شعر دل کی آواز محسوس ہوتے ہیں، اور ان بہت سی باتوں کو سمو رہے ہوتے ہیں جو میں کسی نہ کسی انداز میں کہنا چاہ رہا ہوتا ہوں۔ تو ایسے اشعار ذہن نشیں کر لیتا ہوں اور وقتاً فوقتا سوشل میڈیا یا احباب سے ڈسکشن میں پیش کرتا رہتا ہوں۔ :)
باقاعدہ ڈائری لکھنا باقاعدہ لوگوں کا کام ہے۔ :)
سید عاطف علی — ستمبر 30، 2019 5:53 صبح
چھوٹا سا ایک کام بڑا نام کر گیا
واہ ظہیر بھائی بہت خوب رنگ جمایا ہے ۔
ویسے کچھ نپا تلا چٹکلا اکثر لاتے ہیں آپ :) ۔بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا ۔
اے خان — ستمبر 30، 2019 5:56 صبح
بہت خوب ظہیراحمدظہیر بھائی :)
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 1، 2019 4:02 صبح
بے پناہ داد! تعریف جس قدر بھی کر دی جائے ناکافی رہے گی۔ بہت اعلیٰ!
نوازش فرقان بھائی! ذرہ نوازی پر ممنون ہوں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے
بہت شکریہ المیٰ ۔
واہ ظہیر بھائی بہت خوب رنگ جمایا ہے ۔
ویسے کچھ نپا تلا چٹکلا اکثر لاتے ہیں آپ :) ۔بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا ۔

آداب ، عاطف بھائی! نوازش ہے آپ کی ۔ نکتہ شناسی و قدر افزائی کا شکریہ ! اللہ کریم آپ کو خیر وعافیت میں رکھے ۔
بہت خوب ظہیراحمدظہیر بھائی :)
بہت شکریہ عبداللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو شاد و آباد رکھے!
محمداحمد — اکتوبر 1، 2019 8:42 صبح
واہ واہ واہ!
بہت خوبصورت غزل ظہیر بھائی!
ترکِ جنون کرکے بیاباں سے گھر گیا
بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا
ہار گیا کو ہر گیا لکھنا کیسا ہے؟
اِس رقص ِگردبادِ غم ِ روزگار میں
ہر جامہء لحاظ بدن سے اتر گیا
سورج کو سر پہ لاد کے دن بھر چلا تھا میں
اُس کو فصیلِ شام پہ چھوڑا تو گھر گیا
شاخِ گلاب شعلہء لرزاں لگی مجھے
پروردہء خزاں تھا بہاروں سے ڈر گیا
اک حرفِ بے شرف کہ کوئی بولتا نہ تھا
بولا گیا تو شہر صداؤں سے بھر گیا
ہر جوہر ِحیات ہوا صرفِ اندمال
اک زخم بھرتے بھرتے مرا کام کر گیا
قدموں سے راستے گئے رہبر کی آس میں
رہبر ملے تو ہاتھ سے رختِ سفر گیا
جرم ِوفائے یار کے مجرم بھی ہم ہوئے
الزامِ خود سری بھی ہمارے ہی سر گیا
در پر ترے جھکے تو زمانہ ہوا خلاف
چھوٹا سا ایک کام بڑا نام کر گیا
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا

ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ پوری غزل میں آہ اور واہ کرتے کرتے انجام تک پہنچا ہوں۔
بہت داد!
کیا کہنے! دل خوش ہوگیا۔
ایسے ملے سرابِ مسلسل کہ اب ظہیرؔ
تشنہ لبی تو ہے مگر احساس مر گیا

مقطع بھی لاجواب ہے۔
اس غزل پر میری طرف سے بہت بہت داد قبول فرمائیے۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 3، 2019 3:35 صبح
نوازش احمد بھائی ! ذرہ نوازی ہے آپ کی ! اس قدر عزت افزائی پر بہت بہت شکریہ! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
ہار گیا کو ہر گیا لکھنا کیسا ہے؟
احمد بھائی ، اس سوال کا جواب پہلے بھی اپنی ایک غزل کے ضمن میں یہاں لکھا تھا ۔ ربط دے رہا ہوں ۔
شعر میرا نکھر گیا ہوگا
سین خے — اکتوبر 3، 2019 3:54 صبح
قدموں سے راستے گئے رہبر کی آس میں
رہبر ملے تو ہاتھ سے رختِ سفر گیا
جرم ِوفائے یار کے مجرم بھی ہم ہوئے
الزامِ خود سری بھی ہمارے ہی سر گیا
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا
ایسے ملے سرابِ مسلسل کہ اب ظہیرؔ
تشنہ لبی تو ہے مگر احساس مر گیا

واہ! بہت خوب :) ڈھیروں داد قبول فرمائیں۔
فاخر رضا — اکتوبر 3، 2019 7:25 شام
پھر سے زمین ہے کسی وارث کی منتظر
گرد و غبارِ وقت میں آدم بکھر گیا
ایسے ملے سرابِ مسلسل کہ اب ظہیرؔ
تشنہ لبی تو ہے مگر احساس مر گیا

پتہ نہیں یہ غزلیں مس ہوگئیں پڑھنے سے
بھائی مجھے تو آپ ٹیگ کردیا کریں اسپتال کے چکر میں غزل سے محروم رہنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 5، 2019 3:41 صبح
واہ! بہت خوب :) ڈھیروں داد قبول فرمائیں۔
بڑی نوازش! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم خوش آپ کو رکھے ۔
پتہ نہیں یہ غزلیں مس ہوگئیں پڑھنے سے
بھائی مجھے تو آپ ٹیگ کردیا کریں اسپتال کے چکر میں غزل سے محروم رہنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے

ضرور کردیا کروں گا جناب ۔ ویسے فاخر بھائی ، ذمہ داریاں اور فرائض کی ادائیگی تو پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔ شاعری وغیرہ شام کو فارغ وقت میں پڑھا کریں ۔ :):):)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%B4%D8%AE%D8%B5-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D9%90-%DB%81%D8%AC%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%B1%DA%AF%DB%8C%D8%A7.108604/