اگرچہ نکتہ چینی ہو رہی ہے
مگر مسند نشینی ہو رہی ہے
توکل سے فراموشی ہے شاید
ہر اک خواہش کمینی ہو رہی ہے
میں ہوں تنقید کے نرغے میں لیکن
مِری شہرت یقینی ہو رہی ہے
کھلیں ہیں بے بصارت خانقاہیں
جہاں اب دیدہ بینی ہو رہی ہے
دعا کو ہاتھ کب اُٹھے گے با با
فقط کوشش زمینی ہو رہی ہے
کہاں دلشاد اب محنت مشقت
یہاں دنیا مشینی ہو رہی ہے
مگر مسند نشینی ہو رہی ہے
توکل سے فراموشی ہے شاید
ہر اک خواہش کمینی ہو رہی ہے
میں ہوں تنقید کے نرغے میں لیکن
مِری شہرت یقینی ہو رہی ہے
کھلیں ہیں بے بصارت خانقاہیں
جہاں اب دیدہ بینی ہو رہی ہے
دعا کو ہاتھ کب اُٹھے گے با با
فقط کوشش زمینی ہو رہی ہے
کہاں دلشاد اب محنت مشقت
یہاں دنیا مشینی ہو رہی ہے