ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں

عاطف ملک — فروری 25، 2020 10:05 صبح
ایک کاوش استادِ محترم ،دیگر اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔امید ہے احباب اپنی رائے سے نوازیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں
منزلیں کیا ملیں جب راہ گزر ہے ہی نہیں
سب نے سمجھایا مگر مجھ پہ اثر ہے ہی نہیں
جز ترے کوئی مرے پیشِ نظر ہے ہی نہیں
اپنی آنکھوں میں جلا رکھے ہیں امید کے دیپ
کیسے کہہ دوں کہ شبِ غم کی سحر ہے ہی نہیں
جس میں آسائش و آرام کی ہے فکر تجھے
عارضی جائے سکونت ہے یہ گھر ہے ہی نہیں
میں اگر تجھ سے نہ مانگوں،تو کروں کس سے سوال
اک ترے در کے سوا دوسرا در ہے ہی نہیں
وہ رگِ جاں سے قریں ہے ترے، پھر بھی عاطفؔ
تو سمجھتا ہے اسے تیری خبر ہے ہی نہیں

عاطفؔ ملک
(فروری ۲۰۲۰)
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 25، 2020 10:24 صبح
بہت خوب! ماشاءاللہ
فاخر رضا — فروری 25، 2020 10:40 صبح
زبردست
حمد کا مزا بھی آگیا ساتھ ساتھ
Wajih Bukhari — فروری 25، 2020 10:45 صبح
اچھا لکھا ہے آپ نے۔
میری رائے پھر یہی ہے کہ بہت سے الفاظوں کے حروف گر رہے ہیں جو کہ عروضی طور پر تو شاید جائز ہیں لیکن جمالیاتی طور پر اتنے پسندیدہ نہیں لگ رہے
Wajih Bukhari — فروری 25، 2020 10:59 صبح
آپ یہ ہر گز نہ سمجھئے کہ آپ کا کلام مجھے اچھا نہیں لگا۔ اچھا لگا تو رائے پیش کرنے کی جسارت کی:)
عرفان سعید — فروری 25، 2020 11:42 صبح
ایسا لگتا ہے کہ انجامِ سفر ہے ہی نہیں
منزلیں کیا ملیں جب راہ گزر ہے ہی نہیں
بہت اعلی! کیا بات ہے۔
الف عین — فروری 25، 2020 4:59 شام
اچھا لکھا ہے آپ نے۔
میری رائے پھر یہی ہے کہ بہت سے الفاظوں کے حروف گر رہے ہیں جو کہ عروضی طور پر تو شاید جائز ہیں لیکن جمالیاتی طور پر اتنے پسندیدہ نہیں لگ رہے
مجھے تو صرف مطلع کے دوسرے مصرعے میں ایسا محسوس ہوا کہ 'ملیں' محض مِ لِ تقطیع ہو رہا ہے
باقی اشعار تو بہت خوب ہیں
Wajih Bukhari — فروری 26، 2020 7:27 صبح
مجھے تو صرف مطلع کے دوسرے مصرعے میں ایسا محسوس ہوا کہ 'ملیں' محض مِ لِ تقطیع ہو رہا ہے
باقی اشعار تو بہت خوب ہیں
جی، بالکل اشعار ما شااللہ واقعی بہت اچھے ہیں۔ آپ سے زیادہ تو میں نہیں جانتا۔ مجھے ان الفاظ کے حروف گرتے ہوئے لگے۔
ایسا
ملیں
سمجھایا
رکھے
اپنی
کیسے
جائے
دوسرا
ترے مقطع میں۔
Wajih Bukhari — فروری 26، 2020 7:31 صبح
ایک دفعہ پھر دست بستہ گزارش ہے کہ میری رائے سے بس یہ نتیجہ ہی اخذ کیجئے کہ میں آپ کے عمدہ کلام میں اتنی دلچسپی لے رہا ہوں کہ میں اس کی باریکیوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لکھتے رہئے اور ہمیں اپنے اشعار سے نوازتے رہئے۔
عاطف ملک — فروری 27، 2020 1:10 شام
بہت خوب! ماشاءاللہ
بہت بہت شکریہ راحل بھائی:)
زبردست
حمد کا مزا بھی آگیا ساتھ ساتھ
جزاک اللہ فاخر بھائی:)
آپ کے تبصرے ہمیشہ ہی جی خوش کر دیتے ہیں:)
اچھا لکھا ہے آپ نے۔
میری رائے پھر یہی ہے کہ بہت سے الفاظوں کے حروف گر رہے ہیں جو کہ عروضی طور پر تو شاید جائز ہیں لیکن جمالیاتی طور پر اتنے پسندیدہ نہیں لگ رہے
بہت شکریہ جناب:)
جی،آپ درست فرما رہے ہیں،حروف گر تو رہے ہیں۔لیکن مجھے ذاتی طور پر اتنا قابلِ اعتراض نہیں لگ رہا کیونکہ حروف گرانے کے حوالے سے بڑوں سے یہی سنا ہے کہ عربی فارسی الاصل الفاظ میں حروفِ علت نہ گرانے چاہیں،ہندی میں چل جاتا ہے۔
بہت اعلی! کیا بات ہے۔
بہت بہت شکریہ:)
مجھے تو صرف مطلع کے دوسرے مصرعے میں ایسا محسوس ہوا کہ 'ملیں' محض مِ لِ تقطیع ہو رہا ہے
باقی اشعار تو بہت خوب ہیں
بہت شکریہ استادِ محترم،
سند مل گئی:):):)
فرقان احمد — فروری 27، 2020 1:50 شام
وہ رگِ جاں سے قریں ہیں ترے، پھر بھی عاطفؔ
غزل بہت اعلیٰ ہے۔ ویسے، یہاں ٹائپو ہے یا ہم کچھ غلط سمجھے۔
عاطف ملک — فروری 29، 2020 4:44 صبح
غزل بہت اعلیٰ ہے۔ ویسے، یہاں ٹائپو ہے یا ہم کچھ غلط سمجھے۔
بہت شکریہ۔
یہ "رگِ جاں سے قریں" ہی لکھا ہے جو غالباً اللہ کی صفت ہے۔غالباً کہیں پڑھا تھا لیکن اب یاد نہیں۔
فرقان احمد — فروری 29، 2020 7:29 صبح
بہت شکریہ۔
یہ "رگِ جاں سے قریں" ہی لکھا ہے جو غالباً اللہ کی صفت ہے۔غالباً کہیں پڑھا تھا لیکن اب یاد نہیں۔
عمدہ!
عرفان سعید — فروری 29، 2020 7:56 صبح
یہ "رگِ جاں سے قریں" ہی لکھا ہے جو غالباً اللہ کی صفت ہے۔غالباً کہیں پڑھا تھا لیکن اب یاد نہیں۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ښ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے دل میں اُبھرنے والے وسوسوں تک کو ، ہم جانتے ہیں۔ہم اُس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔(سورۃ ق: 16)
شکیل احمد خان23 — فروری 29، 2020 8:52 صبح
اچھا لکھا ہے آپ نے۔
میری رائے پھر یہی ہے کہ بہت سے الفاظوں کے حروف گر رہے ہیں جو کہ عروضی طور پر تو شاید جائز ہیں لیکن جمالیاتی طور پر اتنے پسندیدہ نہیں لگ رہے
وجیہ صاحب :
محترم لفظ کی جمع الفاظ اور جملے کی مناسبت سے لفظوں کو ہم کب تسلیم کریں گے ،کب لفظ سے لاتلالی کا یہ عذاب ہٹے گا ، کب ؟؟بھلا کب؟
عاطف ملک صاحب :بہت خوبصورت کاوش ہے ۔مطلعِ ثانی میں تو آپ نے اپنی جھنجھلاہٹ اور ضد کو شاعری کے سانچے میں یوں ڈھالا ہے کہ عیوب ،محاسن ہوگئے،واہ!
عاطف ملک — فروری 29، 2020 3:19 شام
عاطف ملک صاحب :بہت خوبصورت کاوش ہے ۔مطلعِ ثانی میں تو آپ نے اپنی جھنجھلاہٹ اور ضد کو شاعری کے سانچے میں یوں ڈھالا ہے کہ عیوب ،محاسن ہوگئے،واہ!
بہت شکریہ:)
آپ کا حسنِ نظر ہے۔اللہ ذوق سلامت رکھے:)
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2020 11:05 شام
واہ ۔ بہت خوب عاطف بھائی ۔ اچھے اشعار ہیں ۔
میں اگر تجھ سے نہ مانگوں،تو کروں کس سے سوال
اک ترے در کے سوا دوسرا در ہے ہی نہیں
کیا بات ہے !! بہت خوب!
مقطع میں شتر گربہ ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔ مصرع ثانی میں اسے کے بجائے انہیں کردیجئے ۔
عاطف ملک — مارچ 4، 2020 8:36 صبح
اہ ۔ بہت خوب عاطف بھائی ۔ اچھے اشعار ہیں ۔
میں اگر تجھ سے نہ مانگوں،تو کروں کس سے سوال
اک ترے در کے سوا دوسرا در ہے ہی نہیں
کیا بات ہے !! بہت خوب!
بہت بہت شکریہ ظہیر صاحب
آپ کی تعریف تو خصوصی catalyst کا کام کرتی ہے
مقطع میں شتر گربہ ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔ مصرع ثانی میں اسے کے بجائے انہیں کردیجئے ۔
یہاں ٹائپو ہے۔
پہلا مصرع "وہ رگِ جاں سے قریں ہے ترے پھر بھی عاطفؔ"
ہے۔
محمد تابش صدیقی محمد خلیل الرحمٰن سے گذارش ہے کہ تدوین کر دیں۔بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%85%D9%90-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.110654/