ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے

نوشین فاطمہ عبدالحق — اگست 19، 2018 6:34 شام
طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے
تجھ کو اچھا نہیں سمجھیں گے زمانے والے
گل فروشا ! بڑے دن بعد دی آواز ہمیں
لے کے آئے ہو وہی گل ؟ وہ پرانے والے؟
ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے
ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے ؟
تم کہاں سے لیے آتے ہو ہمارا انداز
کون ہیں لہجے یہاں بیچ کے کھانے والے
دیر تک جرم کے احساس میں جلتے رہتے
ہم بھی گر ہوتے کوئی شمع بجھانے والے
ناز و انداز وہ اپنایا ہے تم نے بھی کہ بس
ہم ہیں اب دیر تلک تم کو ستانے والے
راہ میں بھٹکے ہوئے ملتے ہیں اکثر نوشے!
دوسرے لوگوں کو منزل کا بتانے والے
#نوشین_فاطمہ
عرفان سعید — اگست 20، 2018 8:47 شام
ناز و انداز وہ اپنایا ہے تم نے بھی کہ بس
ہم ہیں اب دیر تلک تم کو ستانے والے
خوب!
عرفان سعید — اگست 20، 2018 8:48 شام
بہت عرصے بعد آپ کو دیکھا۔
آداب عرض ہے۔
اک عمر رہ تکی، اے نغمہ سنانے والے
جاسمن — اگست 21، 2018 12:50 صبح
بہت خوبصورت اشعار ہیں۔
محمداحمد — اگست 31، 2018 8:22 صبح
بہت خوب !
عمدہ غزل
ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے ؟

لاجواب مصرع ہے۔
احمد وصال — ستمبر 1، 2018 6:12 صبح
گل فروشا ! بڑے دن بعد دی آواز ہمیں
لے کے آئے ہو وہی گل ؟ وہ پرانے والے؟
۔۔
واااااااااہ بہت عمدہ
الف عین — ستمبر 2، 2018 6:08 صبح
واہ اچھی غزل ہے
تخلص بدل دیا ہے کیا؟لیکن نوشہ /نوشے مردوں کے ہو سکتے ہیں
گل فروشا نیا لفظ سننے میں آیا
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 6، 2018 4:59 شام
واہ ! اچھے اشعار ہیں ! بہت خوب!
ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے
نوشین صاحبہ، اس مصرع کو ایک بار پھر دیکھ لیجئے ۔ معافی طلب کرنا اور معافی کی طلب کرنا دو مختلف باتیں ہیں ۔ نمعلوم آپ کا مدعا کیا ہے اس شعر میں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92.102892/