محمود احمد غزنوی — اگست 30، 2009 9:14 صبح
ایسی تو کوئی بات نہیں
روشنی تھی نہ اُسکا سایہ تھا
ہر طرف اک سکوت چھایا تھا۔ ۔
یاد ہے پتھروں کی بارش میں
پہلا پتھر اُسی نے پھینکا تھا
اور اب مدتوں کے بعد اُس نے
مسکراتے ہوئے یہ پوچھا ہے
"آپ مجھ سے کہیں خفا تو نہیں؟"
اپنا ہر کرب چھپا کر میں نے۔ ۔ ۔
جانے کیسے یہ کہہ دیا میں نے
"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں"
الف عین — اگست 30، 2009 11:34 صبح
بہت اچھی نظم ہے محمود۔۔ یہ آپ کی پسندیدہ بحر ہے شاید، اور اسی میں دوسری بحر کے پیوند اچھے نہیں لگتے۔
اپنا ہر کرب چھپا کر میں نے۔ ۔ ۔
یہ مصرع اس بحر میں نہیں ہے۔
جن دو بحروں میں کنفیوژن ہوتا ہے، ان کی تفصیل یہ ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
اور
فاعلاتن فِعِلاتن فعلن
اس پر رھوڑا دھیان دیں کہ بحر یا تو یہ ہو یا وہ۔
محمود احمد غزنوی — اگست 31، 2009 5:07 صبح
شکریہ سر۔ ۔ ۔ آجکل یہی اسباق پڑھ رہا ہوں۔ عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب

الف عین — اگست 31، 2009 6:47 صبح
امید ہے جلد ہی قطرے سے گہر ہو جائیں گے۔
محمود احمد غزنوی — اگست 31، 2009 7:59 صبح
امید ہے جلد ہی قطرے سے گہر ہو جائیں گے۔
آپکی اس پوسٹ سے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ "گہر" ہی تخلص رکھ لیا جائے۔ انکی محفل میں گُہر کو دیکھو۔ ۔ ۔جاں سراپا سپاس ہوتی ہے

الف عین — اگست 31، 2009 5:23 شام
لیکن محمود ’گہر‘ میں بھی وہی مسئلہ ہے۔ عصر کے وزن پر ہے یہ۔ ہ پر حرکت یعنی آسان لفظوں میں زبر ہے
محمداحمد — ستمبر 4، 2009 7:27 صبح
اچھی نظم ہے محمود غزنوی صاحب!
مغزل — ستمبر 4، 2009 7:42 صبح
محمود غزنوی صاحب ، بہت خوب ، ماشا اللہ اچھی کوشش ہے ۔ واہ