ایوارڈ یافتہ نظم

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 2، 2013 11:49 شام
یہ نظم دعوۃ اکیڈمی کی جانب سے منعقد کردہ ۲۰۱۱ء کے مقابلے میں پاکستان بھر میں اول قرار دی گئی تھی​
مقابلے میں صرف وہ نظمیں شامل تھیں جو ۲۰۱۱ء میں بچوں کے کسی رسالے کی زینت بنی ہوں۔​
گائے لگی بدکنے
قربان گاہ میں جب ، ہم نے چھرا اٹھایا
گائے لگی بدکنے ، آنکھوں میں خون آیا
رسی کو ہم نے پھینکا ، پاؤں کو اس کے باندھا
چاروں طرف سے پکڑا ، یک دم اسے گرایا
گر تو گئی وہ لیکن ، بے حد لگی مچلنے
ہم سب نے اس کو جکڑا ، اور زور بھی لگایا
طاقت بہت تھی اس میں ، کم زور تھے نہ ہم بھی
ہم ایک دم جو کھانسے ، کھانسی میں ہاتھ اٹھایا
غصے میں تھی وہ گائے ، موقع جو ہاتھ آیا
رسی سے اس نے خود کو ، جھٹکے سے پھر چھڑایا
اوندھے پڑے تھے ہم سب ، بھاگی وہ جارہی تھی
ہم کو تھی جھنجھلاہٹ ، غصہ بھی خوب آیا
ڈنڈے اٹھائے سب نے، بھاگے سب اس کے پیچھے
’’بھاگی وہاں ہے ، بھاگو‘‘ ، سب نے ہمیں بتایا
دو گھنٹے بعد اس کو ، ہم پاچکے تھے لیکن
مت پوچھنا کہ اس نے ، کتنا ہمیں تھکایا
اس بار باندھا کَس کے ، چڑھ گئے گرا کے اس پہ
اللہ کا نام لے کر ، ہم نے چھرا چلایا
ٹھنڈی وہ ہوگئی جب ، کھال اس کی کھینچ ڈالی
ٹکڑے کیے پھر اس کے ، بے حد مزہ بھی پایا
غربا کو بھی دیا کچھ ، کچھ اقربا میں بانٹا
باقی ثلث کو ہم نے ، اپنے لیے بچایا
تلی ، کلیجی بھونی ، اور گوشت بھی پکایا
پھر ہم نے اے اسامہ! ، جی بھر کے اس کو کھایا
منیب احمد فاتح — فروری 3، 2013 5:45 صبح
پرلطف ہے، واہ وا۔۔
عبدالقدوس راشد — فروری 3، 2013 5:55 صبح
یہ نظم دعوۃ اکیڈمی کی جانب سے منعقد کردہ ۲۰۱۱ء کے مقابلے میں پاکستان بھر میں اول قرار دی گئی تھی​
مقابلے میں صرف وہ نظمیں شامل تھیں جو ۲۰۱۱ء میں بچوں کے کسی رسالے کی زینت بنی ہوں۔​
گائے لگی بدکنے
قربان گاہ میں جب ، ہم نے چھرا اٹھایا
گائے لگی بدکنے ، آنکھوں میں خون آیا
رسی کو ہم نے پھینکا ، پاؤں کو اس کے باندھا
چاروں طرف سے پکڑا ، یک دم اسے گرایا
گر تو گئی وہ لیکن ، بے حد لگی مچلنے
ہم سب نے اس کو جکڑا ، اور زور بھی لگایا
طاقت بہت تھی اس میں ، کم زور تھے نہ ہم بھی
ہم ایک دم جو کھانسے ، کھانسی میں ہاتھ اٹھایا
غصے میں تھی وہ گائے ، موقع جو ہاتھ آیا
رسی سے اس نے خود کو ، جھٹکے سے پھر چھڑایا
اوندھے پڑے تھے ہم سب ، بھاگی وہ جارہی تھی
ہم کو تھی جھنجھلاہٹ ، غصہ بھی خوب آیا
ڈنڈے اٹھائے سب نے، بھاگے سب اس کے پیچھے
’’بھاگی وہاں ہے ، بھاگو‘‘ ، سب نے ہمیں بتایا
دو گھنٹے بعد اس کو ، ہم پاچکے تھے لیکن
مت پوچھنا کہ اس نے ، کتنا ہمیں تھکایا
اس بار باندھا کَس کے ، چڑھ گئے گرا کے اس پہ
اللہ کا نام لے کر ، ہم نے چھرا چلایا
ٹھنڈی وہ ہوگئی جب ، کھال اس کی کھینچ ڈالی
ٹکڑے کیے پھر اس کے ، بے حد مزہ بھی پایا
غربا کو بھی دیا کچھ ، کچھ اقربا میں بانٹا
باقی ثلث کو ہم نے ، اپنے لیے بچایا
تلی ، کلیجی بھونی ، اور گوشت بھی پکایا
پھر ہم نے اے اسامہ! ، جی بھر کے اس کو کھایا
لاااااااااااااااااااااااااااااااجواب
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2013 6:14 صبح
پرلطف ہے، واہ وا۔۔
جزاک اللہ خیرا۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2013 6:15 صبح
لاااااااااااااااااااااااااااااااجواب
جزاک اللہ خیرا۔
بنت یاسین — فروری 3، 2013 6:30 صبح
یہ نظم دعوۃ اکیڈمی کی جانب سے منعقد کردہ ۲۰۱۱ء کے مقابلے میں پاکستان بھر میں اول قرار دی گئی تھی​
مقابلے میں صرف وہ نظمیں شامل تھیں جو ۲۰۱۱ء میں بچوں کے کسی رسالے کی زینت بنی ہوں۔​
گائے لگی بدکنے
قربان گاہ میں جب ، ہم نے چھرا اٹھایا
گائے لگی بدکنے ، آنکھوں میں خون آیا
رسی کو ہم نے پھینکا ، پاؤں کو اس کے باندھا
چاروں طرف سے پکڑا ، یک دم اسے گرایا
گر تو گئی وہ لیکن ، بے حد لگی مچلنے
ہم سب نے اس کو جکڑا ، اور زور بھی لگایا
طاقت بہت تھی اس میں ، کم زور تھے نہ ہم بھی
ہم ایک دم جو کھانسے ، کھانسی میں ہاتھ اٹھایا
غصے میں تھی وہ گائے ، موقع جو ہاتھ آیا
رسی سے اس نے خود کو ، جھٹکے سے پھر چھڑایا
اوندھے پڑے تھے ہم سب ، بھاگی وہ جارہی تھی
ہم کو تھی جھنجھلاہٹ ، غصہ بھی خوب آیا
ڈنڈے اٹھائے سب نے، بھاگے سب اس کے پیچھے
’’بھاگی وہاں ہے ، بھاگو‘‘ ، سب نے ہمیں بتایا
دو گھنٹے بعد اس کو ، ہم پاچکے تھے لیکن
مت پوچھنا کہ اس نے ، کتنا ہمیں تھکایا
اس بار باندھا کَس کے ، چڑھ گئے گرا کے اس پہ
اللہ کا نام لے کر ، ہم نے چھرا چلایا
ٹھنڈی وہ ہوگئی جب ، کھال اس کی کھینچ ڈالی
ٹکڑے کیے پھر اس کے ، بے حد مزہ بھی پایا
غربا کو بھی دیا کچھ ، کچھ اقربا میں بانٹا
باقی ثلث کو ہم نے ، اپنے لیے بچایا
تلی ، کلیجی بھونی ، اور گوشت بھی پکایا
پھر ہم نے اے اسامہ! ، جی بھر کے اس کو کھایا
کیسے کرلیتے ہیں لوگ نہ جانے اتنی اتنی اچھی اور عمدہ شاعری۔ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔
بنت یاسین — فروری 3، 2013 6:39 صبح
انعام تو اچھا خاصا ملا ہوگا، اگر اہلیانِ محفل کی دعوت ہوجائے۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2013 7:08 صبح
انعام تو اچھا خاصا ملا ہوگا، اگر اہلیانِ محفل کی دعوت ہوجائے۔
یہاں تو لوگ آن لائن چائے پلا دیتے ہیں، میں بھی ایسی ہی آن لائن تمام اہلیانِ اردو محفل کی ضیافت کرنے کے لیے تیار ہوں۔
محسن وقار علی — فروری 3، 2013 3:08 شام
:D:biggrin::LOL::grin::laughing3::haha:
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2013 4:58 شام
اتنے سارے مہمان آگئے ہیں، اب تو کچھ لانا ہی پڑے گا۔
الف عین — فروری 4، 2013 6:59 صبح
اچھی نظم ہے، اسے انعام یافتہ کہیں نا بجائے اوارڈ یافتہ کے۔
اور میں نے پہلے یہ پڑھا کہ ’مقابلے میں صرف دو نظمیں شامل تھیں‘!!!!
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 4، 2013 8:58 صبح
اچھی نظم ہے، اسے انعام یافتہ کہیں نا بجائے اوارڈ یافتہ کے۔
اور میں نے پہلے یہ پڑھا کہ ’مقابلے میں صرف دو نظمیں شامل تھیں‘!!!!
:)اچھا:) یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات بتائی، مگر یہ کیا;) آپ نے سب کے سامنے کہہ دیا، کچھ تو ۔۔۔۔ چلے چھوڑیں، کوئی بات نہیں۔
محمد یعقوب آسی — فروری 4، 2013 9:11 صبح
اچھا ہے صاحب ۔۔۔ کہ دو ہی تھیں۔
نظم بہرحال عمدہ ہے (بچوں کے حوالے سے)۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 4، 2013 9:27 صبح
بہت عمدہ نظم ہے اسامہ بھائی ۔ داد قبول کیجیے اس انعام یافتہ نظم کی۔
ویسے آپس کی بات ہے، پہلے ہم نے بھی یہی پڑھا کہ مقابلے میں صرف دو نظمیں شامل تھیں۔:)
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 4، 2013 9:28 صبح
اچھا ہے صاحب ۔۔۔ کہ دو ہی تھیں۔
نظم بہرحال عمدہ ہے (بچوں کے حوالے سے)۔
:) یہ تو شکر ہے میں دوم نہیں آیا۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 4، 2013 9:29 صبح
بہت عمدہ نظم ہے اسامہ بھائی ۔ داد قبول کیجیے اس انعام یافتہ نظم کی۔
ویسے آپس کی بات ہے، پہلے ہم نے بھی یہی پڑھا کہ مقابلے میں صرف دو نظمیں شامل تھیں۔:)
آپ حضرات سے آپس کی باتیں شروع ہوگئیں، یہ بھی اسی نظم کے طفیل ممکن ہوا ہے، دوم بھی آتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1%DA%88-%DB%8C%D8%A7%D9%81%D8%AA%DB%81-%D9%86%D8%B8%D9%85.59443/