غزل پھر اسے الوداع کہا میں نے
خود سے خود کو جدا کیا میں نے ما ننا دل کا فیصلہ ہے اب
کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے مشکلوں سے جسے قریب کیا
عجلتوں میں گنوا دیا میں نے کتنے نزدیک سے اسے دیکھا
درمیاں رکھ کے فاصلہ میں نے ایک چپ کام کر گئی کتنا
جیسے سب کچھ ہی کہہ دیا میں نے
مغزل — دسمبر 30، 2008 12:52 شام
پھر اسے الوداع کہا میں نے
خود سے خود کو جدا کیا میں نے بھیا مصرع اولی میں آپ نے الوداع -- الودا باندھا ہے ، عین بروزنِ غین ہوتی ہے ۔۔ لہذا نا موزوں ہوگیا ۔ یہ میری کم علمی ہے ۔۔ بات غلط بھی ہوسکتی ہے ما ننا دل کا فیصلہ ہے اب
کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے مشکلوں سے جسے قریب کیا
عجلتوں میں گنوا دیا میں نے کتنے نزدیک سے اسے دیکھا
درمیاں رکھ کے فاصلہ میں نے ایک چپ کام کر گئی کتنا
جیسے سب کچھ ہی کہہ دیا میں نے باقی غزل خوب ہے ۔ داد حاضر ہے ۔۔ گر قبول افتد ۔
اللہ کرے زورِ قلم مشقِسخن تیز۔ اس وقت کچھ عجلت میںہوں ۔۔ کل دوبارہ حاضر ہوتا ہوں ۔
والسلام
سلیمان جاذب — دسمبر 30، 2008 12:57 شام
اگر ایسا ہے تو الواداع کی جگہ کوئی اور لفظ لگا لیتے ہیں
محمد وارث — دسمبر 30، 2008 3:18 شام
کتنے نزدیک سے اسے دیکھا
درمیاں رکھ کے فاصلہ میں نے لا جواب، بہت خوب! اور پیشِ مطلع میں آپ کو کوئی اور لفظ تو 'لگانا' ہی پڑے گا وگرنہ کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی آپ کو ضرور یاد دلاتا رہے گا اس سے "بہتر" لفظ ڈھونڈنے کیلیے!
نایاب — دسمبر 30، 2008 3:21 شام
السلام علیکم
محترم سلیمان جاذب جی
ماشااللہ
بہت خوب ،،،،،،،،
ایک چپ کام کر گئی کتنا
جیسے سب کچھ ہی کہہ دیا میں نے
۔۔۔۔
زبردست
اللہ کرے زور علم و عمل اور زیادہ آمین
نایاب
محمد نعمان — دسمبر 30، 2008 4:13 شام
ما ننا دل کا فیصلہ ہے اب
کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے
واہ کیا بات کی ہے۔۔عقل کو تابع دل کر دیا۔۔اور یہ فیصلہ بھی عقل ہی نے خود کیا۔عشق کی بات کر دی۔۔منطق کو تابع عشق کر دیا۔
بہت خوب۔مبارک ہو جناب
الف عین — دسمبر 30، 2008 4:37 شام
اچھی غزل ہے۔ لیکن وہ مطلع کا معاملہ جس کی جانب محمود نے اشارہ کیا ہے؟
سلیمان جاذب — دسمبر 31، 2008 8:34 صبح
جی بس آپ لوگوں کی محبت ہے
میں نے کئی لفظ لگادیکھے لیکن کچھ بات نہ بن پائی
لفظ ڈھوندنے نکلا مطلع ہی بدل گیا
خرم شہزاد خرم — دسمبر 31، 2008 10:00 صبح
لاجواب جناب لا جواب کیا بات آپ کی بہت خوب بہت اچھی غزل ہے میری طرف سے مبارک باد قبول کریں اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب فرمائیں آمین اسی طرح لکھتے رہیں
محمد وارث — دسمبر 31، 2008 10:03 صبح
الوداع اس کو پھر کہا میں نے
خود سے خود کو جدا کیا میں نے
خرم شہزاد خرم — دسمبر 31، 2008 10:13 صبح
لے جی سلیمان بھائی آپ کا کام تو ہو گیا
شکریہ وارث صاحب
محمد نعمان — دسمبر 31، 2008 3:06 شام
دیکھا استاد آخر استاد ہوتا ہے چٹکی میں ہو گیا آپکا کام۔۔۔۔۔۔۔۔استاد محترم کا بہت شکریہ۔
محمد وارث — دسمبر 31، 2008 3:29 شام
نعمان صاحب مجھے شک پڑ رہا ہے کہ آپ کا اشارہ اس خاکسار کی طرف ہے، لیکن یار خدا را مجھے اسطرح سے مت لکھیں، آپ مجھے وارث، محمد وارث، وارث صاحب، وارث بھائی، اوئے وارث یا جو دل میں آئے لکھیئے لیکن سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس طرح سے مخاطب کیے جانا زہر لگتا ہے
محمد نعمان — دسمبر 31، 2008 3:35 شام
ٹھیک ہے وارث بھائی اتنی زیادہ اپنائیت دینے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔دراصل مجھے آپکو ایسا کہنا بہت اچھا لگتا ہے کیوں کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی ایسا لفظ مل نہیں رہا جس سے میرے دل میں آپ کے لیے عزت کو کچھ نمائش مل سکے۔ مگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے آپ کو وارث بھائی یا بھیا کہ دیا کروں گا۔۔۔۔مگر مزہ نہیں آئے گا کہ میں دوسروں کو بھی ایسا ہی کہہ کے مخاطب کرتا ہوں کوئی فرق تو ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ بہت خوب جناب ۔ ’’ ا لف کے وصال ‘‘ نے کام کردکھا یا بہت شکریہ وارث صاحب۔
والسلام
سلیمان جاذب — جنوری 1، 2009 10:09 صبح
سبھی بھائیوں کی مہربانی جب تک میں اپنے مطلع کے ساتھ آیا تب تک مطلع آیا چکا تھا میں وارث بھائی کا شکر گزار ہوں اور مغل بھائی کا ممنون
اس غزل کے ساتھ آپ کی محبت دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا
ایک بات جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے ایک تازہ غزل کہی ہے کیسے کہہ دی پتہ نہیں بس ایک لَے دماغ میں آئی اور غزل کہہ دی بس
آپ لوگ اگر مناسب سمجھیں تو اس پر بھی اپنی آراء دے دیں
مجھے بہت خوشی ہو گی
اس کت لیے ایک الگ دھا گا کھول رہا ہوں
مغزل — جنوری 1، 2009 11:15 صبح
شکریہ سلیمان بھائی ۔ آپ کی محبت ہے ورنہ میں کیا میری اوقات کیا ۔
والسلام