امر شہزاد — جون 21، 2008 7:37 صبح
غمِ جہاں نہ غمِ دل سے جان جاتی رہی
ہمیں تو آتشِ احساس ہی جلاتی رہی
بدن کا درد عجب سا سرور دیتا رہا
تمام رات تھکن لوریاں سناتی رہی
رخِ شباب کو جی بھر کے ہم نہ دیکھ سکے
تلاشِرزق میں خوابوں کی عمر جاتی رہی
تھے ہم کہ دام میں نہ آئے، زندگی ورنہ
ہزار بھیس بدل کر تو آزماتی رہی
جو صبح آنکھ کھلی تکیے پر نمی سی تھی
لگا کہ رات مجھے تیری یاد آتی رہی
مغزل — جون 21، 2008 8:07 صبح
امر شہزاد صاحب ۔۔
خوش آمدید ۔
کیا ہی خوبصورت غزل نظر نواز کی ہے ۔۔۔
رسید حاضر ہے باقی گفتگو آئندہ
(آپ تعارف کے تھریڈ میں اپنا تعارف تو پیش کیجیے)
ربط یہ ہے
ایم اے راجا — جون 21، 2008 8:09 شام
بہت خوب بہت پیاری
محمد وارث — جون 21، 2008 9:05 شام
بہت اچھی غزل ہے امر شہزاد صاحب، بہت خوب
شمشاد — جون 21، 2008 10:00 شام
امر شہزاد صاحب خوش آمدید، اپنا تعارف تو دیں۔
سجادعلی — جون 22، 2008 5:32 صبح
اچھے خیالات ہیں
گرو جی — جون 22، 2008 6:24 صبح
بہت اچھی غزل
الف عین — جون 22، 2008 9:37 صبح
کچھ لیٹ ہو گئے امر شہزاد۔ ورنہ مقابلے میں حصہ لے سکتے تھے۔
غزل اچھی ہے امر۔
جیہ — جون 22، 2008 9:40 صبح
راجا صاحب کون ہے وہ جو خوب بھی اور پیاری بھی

ہما — جون 30، 2008 8:10 صبح
اچھا لکھا آپ نے ماشا ء اللہ ۔۔۔۔!
خرم شہزاد خرم — جون 30، 2008 8:28 صبح
غزل کی بات ہو رہی ہے آپی
بہت خوب بہت پیاری غزل ہے
اب یہ نا پوچھیے گا کہ غزل کون ہے
محمداحمد — دسمبر 22، 2012 11:56 صبح
حیرت ہے امر شہزاد کی اتنی خوبصورت غزل ہماری آنکھوں سے اب تک اوجھل رہی۔
امر شہزاد اردو محفل کے بہت ہی اچھے شاعر رہے ہیں لیکن کافی عرصے سے
امر شہزاد محفل میں نہیں آئے۔
اللہ کرے جہاں ہوں باخیریت ہوں اور ہو سکے تو محفل میں پھر سے آ جائیں۔
احسن مرزا — دسمبر 27، 2012 10:30 صبح
بہت خوب جناب۔ داد حاضر ہے!!!