ایک بھولی بھٹکی غزل

محسن حجازی — اپریل 26، 2007 10:41 صبح
ایک بھولی بھٹکی غزل
کوئی جائے مفر نہیں
ہمیں اذن کفر نہیں
بہت دل سے نکالا اسے
وہ جاتا مگر نہیں
جتنی مسافت ہے مری
اتنا تو سفر نہیں
چاک ہو جائے گریبان زیست
ہم سے ہوتا صبر نہیں
کوئی اور کہہ دیتا یہ غزل
محسن میں کہتا اگر نہیں
علم عروض کے ماہرین سے پیشگی معذرت۔
شمشاد — اپریل 26، 2007 3:29 شام
بہت خوب محسن بھائی، بہت اچھی شاعری ہے۔
عمر سیف — اپریل 26، 2007 7:02 شام
خوب۔
حجاب — اپریل 26، 2007 7:23 شام
بہت خوب ۔
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 9، 2007 7:56 صبح
بہت اچھی غزل ہے جناب بہت خوب
ہمسفر — اکتوبر 12، 2007 8:26 شام
بہت خوب محسن بھائی میں‌بھی اتفاقا اپ کا ہم نام اور ایک چھوٹا موٹا شاعر بھی ہوں
آپ سے مل کر خوشی ہوئی
فرخ منظور — اکتوبر 17، 2007 1:14 شام
اچھا کلام ہے محسن صاحب!
زندہ — اکتوبر 18، 2007 3:25 شام
واہ جی واہ سبحان اللہ کیا خوب صورت غزل کہی مزا آگیا پڑھ کر اور علم عروض کی ٹانگ توڑے بغیر کوئی شاعر نہیں بن سکتا
بغیر مشقت کوئی شاعر نہیں بنا
ہزار الٹی غزلیں کہیں تب ایک شعر ہوا
آداب عرض خدامات ہے :eek:
زندہ — اکتوبر 18، 2007 3:29 شام
بہت خوب محسن بھائی میں‌بھی اتفاقا اپ کا ہم نام اور ایک چھوٹا موٹا شاعر بھی ہوں
آپ سے مل کر خوشی ہوئی
بڑی خوشی ہوئی جی آپ سے مل کے جی میں بھی ایک بہت موٹا اور بہت بڑا شاعر ہوں:eek: لیکن میں کسی پہ اظہا ر نہیں کرتا میرا ایک شعر میرے بارے میں ہی ہے
عاقل آتی ہے مجھے اور نا ہی شاعری آتی ہے
پر کیا کروں شعر کہنے کی عادت بھی نہیں جاتی ہے
آداب عرض خدامات ہے:grin:
silent.killer — اکتوبر 24، 2007 5:43 شام
واہ
واہ کیا بات ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.6427/