ایک تازہ غزل

سعید سعدی — مارچ 19، 2018 4:44 صبح
عشق میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
یہ طوفان ڈبو سکتا ہے
دھندلا سکتی ہے منزل بھی
رستہ بھی تو کھو سکتا ہے
یادوں کی اک چادر اوڑھے
کوئی کیسے سو سکتا ہے
آج ملا تو پوچھ رہا تھا
کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے
پھول جھڑیں جس کے ہونٹوں سے
وہ بھی خار چبھو سکتا ہے
اس دل کی تم وسعت دیکھو
کیا کیا درد سمو سکتا ہے
آنسو ایک ندامت والا
ہر لغزش کو دھو سکتا ہے
اس نے کن ُ کہنا ہے سعدی
سوچو کیا کیا ہو سکتا ہے

محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 25، 2018 4:57 صبح
خوب صورت غزل۔ داد قبول فرمائیے سعید سعدی بھائی
سعید سعدی — مارچ 25، 2018 6:01 صبح
خوب صورت غزل۔ داد قبول فرمائیے سعید سعدی بھائی
بہت شکریہ بہت نوازش بھائی.. پسندیدگی کے لیے شکرگزار ہوں
عبید انصاری — مارچ 25، 2018 6:11 صبح
بہترین۔ زبردست۔
سعید سعدی — مارچ 25، 2018 6:50 صبح
بہت شکریہ بہت نوازش بھائی.. پسندیدگی کے لیے شکرگزار ہوں
محمداحمد — مارچ 26، 2018 11:29 صبح
آج ملا تو پوچھ رہا تھا
کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے
آنسو ایک ندامت والا
ہر لغزش کو دھو سکتا ہے
اس نے کن ُ کہنا ہے سعدی
سوچو کیا کیا ہو سکتا ہے


واہ! کیا کہنے!
داد قبول کیجے۔
سعید سعدی — مارچ 26، 2018 2:01 شام
آج ملا تو پوچھ رہا تھا
کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے
آنسو ایک ندامت والا
ہر لغزش کو دھو سکتا ہے
اس نے کن ُ کہنا ہے سعدی
سوچو کیا کیا ہو سکتا ہے


واہ! کیا کہنے!
داد قبول کیجے۔
بہت شکریہ بہت نوازش بھائی.. پسندیدگی کے لیے شکرگزار ہوں
الف عین — مارچ 26، 2018 5:27 شام
واہ اچھی غزل ہے
سعید سعدی — مارچ 27، 2018 9:26 شام
بہت شکریہ .. پسندیدگی کے لیے شکرگزار ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84.100552/