ایک تازہ غزل - منیب احمد فاتح

منیب احمد فاتح — مئی 20، 2013 7:04 شام
ایک تازہ غزل پیش ہے۔ جی کھول کر تنقید کریں تاکہ معائب و محاسن سامنے آ سکیں۔ عرض کیا ہے:
کسے فراغ پریشانئ عدو کے لئے​
بہت ہے حلقہِ احباب ہاؤ ہو کے لئے​
حسد سے مانگتی پھرتی ہے چشم رو بفرار​
شکستگی تمکنتِ حسنِ خوب رو کے لئے​
زشہرِ سنگ پرستاں ہوں داد خواہِ جنوں​
شکستِ شیشہِ پندارِ آبرو کے لئے​
سخن طرازئ فاتح ہے پاسِ اہلِ ہنر​
مقامِ نقد نہیں خوئے عیب جو کے لئے​
(ق)​
اڑی جو دشت میں بادِ خزاں بھبوکے لئے​
تو آ کے بوسے مری چشمِ بے وضو کے لئے​
کہا یہ میں نے کہ مت چھیڑ فکرمندِ بہار!​
کہ ہم بھی بیٹھے ہیں کچھ داغ آرزو کے لئے​
ذرا متابعِ جوشِ جنوں تو ہوں کہ چلیں​
ہزار خار سہی پائے جستجو کے لئے​
شوکت پرویز — مئی 22، 2013 11:32 صبح
حسد سے مانگتی پھرتی ہے چشم رو بفرار​
شکستگی تمکنتِ حسنِ خوب رو کے لئے​
شکستگی میں "ت" بھی تقطیع میں شمار ہو گی، یہ تائے فارسی نہیں ہے۔۔۔ اور اس وجہ سے درج بالا شعر وزن سے خارج ہو رہا ہے۔۔۔:)
منیب احمد فاتح — مئی 22، 2013 3:23 شام
شکستگی میں "ت" بھی تقطیع میں شمار ہو گی، یہ تائے فارسی نہیں ہے۔۔۔ اور اس وجہ سے درج بالا شعر وزن سے خارج ہو رہا ہے۔۔۔ :)

صحیح کہا، شکریہ!
مدیحہ گیلانی — مئی 22، 2013 7:35 شام
واہ واہ !
خوب غزل کہی آپ نے منیب میاں ۔
جیتے رہیں بیٹا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
الف عین — مئی 23، 2013 4:20 صبح
خوب غزل ہے، بس وہی شکستگی ہی شکستہ ہے
منیب احمد فاتح — مئی 24، 2013 3:40 صبح
خوب غزل ہے، بس وہی شکستگی ہی شکستہ ہے

ہاں جی، اس کو دیکھتا ہوں۔
منیب احمد فاتح — مئی 24، 2013 3:41 صبح
واہ واہ !
خوب غزل کہی آپ نے منیب میاں ۔
جیتے رہیں بیٹا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

آمین!
محتشم سلمان — جون 1، 2013 4:55 صبح
حضور حضور حضور! حد ہوتی ہے کسی شے کی بھی۔ عمر بیس برس آپ کی اور کلام دیکھئے۔۔۔ سبحان اللہ! ایک ایک شعر پر بجائے واہ آہ نکلتی ہے:
زشہر سنگ پرستاں ہوں داد خواہ جنوں​
شکست شیشہ پندار آبرو کے لئے​
اللہ اللہ! اور وہ جو ایک شعر آپ کا غلط ہوا تو مجھے تسلی ہوئی کہ یہ کلام آپ ہی کا ہے۔ ;)
اور قطعہ دیکھئے، کیا ہی نقشہ آنکھوں میں گھما دیا آپ نے۔ ماشاءاللہ!​
میں نے تو دوسری ہی غزل آپ کی دیکھی ہے اور معتقد ہو گیا ہوں۔ آپ تو میرے ہی شہر میں رہتے ہیں۔ کوئی ملاقات کیجئے۔​
محمداحمد — جون 3، 2013 9:23 صبح
زشہرِ سنگ پرستاں ہوں داد خواہِ جنوں
شکستِ شیشہِ پندارِ آبرو کے لئے
واہ واہ واہ
بہت عمدہ کلام ہے۔
منیب احمد فاتح — جون 4، 2013 1:18 صبح
زشہرِ سنگ پرستاں ہوں داد خواہِ جنوں
شکستِ شیشہِ پندارِ آبرو کے لئے
واہ واہ واہ
بہت عمدہ کلام ہے۔

نہایت شکرگزار ہوں۔
منیب احمد فاتح — جون 4، 2013 1:21 صبح
حضور حضور حضور! حد ہوتی ہے کسی شے کی بھی۔ عمر بیس برس آپ کی اور کلام دیکھئے۔۔۔ سبحان اللہ! ایک ایک شعر پر بجائے واہ آہ نکلتی ہے:
زشہر سنگ پرستاں ہوں داد خواہ جنوں​
شکست شیشہ پندار آبرو کے لئے​
اللہ اللہ! اور وہ جو ایک شعر آپ کا غلط ہوا تو مجھے تسلی ہوئی کہ یہ کلام آپ ہی کا ہے۔ ;)
اور قطعہ دیکھئے، کیا ہی نقشہ آنکھوں میں گھما دیا آپ نے۔ ماشاءاللہ!​
میں نے تو دوسری ہی غزل آپ کی دیکھی ہے اور معتقد ہو گیا ہوں۔ آپ تو میرے ہی شہر میں رہتے ہیں۔ کوئی ملاقات کیجئے۔​

جناب معتقد بھی ہو گئے آپ!!!
جی ضرور، چند دن میں یونیورسٹی کے ایگزیمز سے فارغ ہو جاؤں گا۔ پھر آپ سے ملاقات یقینی۔ :)
محتشم سلمان — جون 4، 2013 11:38 صبح
بہت نوازش۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.64065/