غزل
خون ہی خون ہے برسات کے آئینے میں
کوئی صورت نہیں حالات کے آئینے میں میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت
میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں ایک ہاں ہے مرے انکار کے لہجے میں نہاں
ایک انکار ہے اثبات کے آئینے میں عمرِ رفتہ ہُوئی آزاد، مگر کیا کیجئے
روح محصور ہے خدشات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر
ایک بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں کنجِ لب بستہ کی صورت نہ رہیں کیوں محمود
حرف ِ حق کوئی نہیں ذات کے آئینے میں آپ کی آراء اور بے لاگ تبصروں کا بے چینی سے منتظر
(الف عین اور وارث صاحب کی خصوصی توجہ اور تنقیدی نظر کا طالب )
ارادت کیش
م۔م۔مغل
جیا راؤ — مئی 12، 2008 12:27 شام
واہ واہ۔ م م صاحب
بہت ہی خوب غزل ہے ! سالِ رفتہ ہُوا آزاد، مگر کیا کیجئے
روح محصور ہے خدشات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر
اور بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں یہ اشعار بہت اچھے لگے۔
مغزل — مئی 12، 2008 12:39 شام
[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"]بہت شکریہ جیا رائو صاحبہ
آداب عرض ہے۔۔
اس حوصلہ افزائی اور خلوص کے لیے ممنون ہوں۔
ایک بار پھر بہت بہت شکریہ[/FONT]
محسن حجازی — مئی 12، 2008 1:37 شام
ایک ہاں ہے مرے انکار کے لہجے میں نہاں
ایک انکار ہے اثبات کے آئینے میں سالِ رفتہ ہُوا آزاد، مگر کیا کیجئے
روح محصور ہے خدشات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر
اور بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں کنجِ لب بستہ کی صورت نہ رہیں کیوں محمود
حرف ِ حق کوئی نہیں ذات کے آئینے میں واہ واہ۔۔۔ سبحان اللہ جی خوش ہو گیا۔ پہلا شعر تو غالبا زرداری صاحب کی طرف تولد ہونا تھا آپ کے ہاں آ گیا۔ دوسرا مشرف صاحب سے تعلق رکھتا ہے۔ تیسرا نواز شریف کی بابت ہے۔ چوتھا مولانا فضل الرحمان کی بیاض سے نقل شدہ معلوم ہوتا ہے۔
محسن حجازی — مئی 12، 2008 1:40 شام
واہ کیا غزل ہے کیا موضوع میں روانی ہے۔ مجھے تو بہت پسند آئی باقی تو ماہرین نشتر لے کر آتے ہی ہوں گے۔آپ نے اچھا کیا جو یہاں ارسال کر دی کہ ہم اب ہفتوں اپنے نام سے احباب کو سنائیں گے۔
محمداحمد — مئی 12، 2008 2:24 شام
میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت
میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں مغل بھائی
آداب، اتنی عمدہ غزل آپ نے ہم سے چھپا کے رکھی ہے۔ ارے بھائی ایسی بھی کیا بے اعتنائی ہے۔۔۔۔۔ بہت عمدہ غزل ہے اور جناب ہر شعر لا جواب ہے ۔ اور جناب خاص کر درج بالا شعر نے تو بہت ہی خوب ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے (آمین
ایک ہاں ہے مرے انکار کے لہجے میں نہاں
ایک انکار ہے اثبات کے آئینے میں سالِ رفتہ ہُوا آزاد، مگر کیا کیجئے
روح محصور ہے خدشات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر
اور بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں کنجِ لب بستہ کی صورت نہ رہیں کیوں محمود
حرف ِ حق کوئی نہیں ذات کے آئینے میں واہ واہ۔۔۔ سبحان اللہ جی خوش ہو گیا۔ پہلا شعر تو غالبا زرداری صاحب کی طرف تولد ہونا تھا آپ کے ہاں آ گیا۔ دوسرا مشرف صاحب سے تعلق رکھتا ہے۔ تیسرا نواز شریف کی بابت ہے۔ چوتھا مولانا فضل الرحمان کی بیاض سے نقل شدہ معلوم ہوتا ہے۔
محترمی محسن چنگیزی ۔۔۔ اوہ معاف کیجئے گا میں خصلتِ بے بہا میں بہہ گیا تھا۔۔
محسن حجازی صاحب۔۔
آداب ۔۔ بہت شکریہ اس بندر بانٹ کیلئے ،، آپ نے میرے سارے شعر مستحقین میں تقسیم کردئیے۔۔
خیرمیں دوبارہ کہہ لوں گا۔۔ بھیا جی۔۔ ۔۔ ایک بار پھر بہت بہت شکریہ
ایک ہاں ہے مرے انکار کے لہجے میں نہاں
ایک انکار ہے اثبات کے آئینے میں سالِ رفتہ ہُوا آزاد، مگر کیا کیجئے
روح محصور ہے خدشات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر
اور بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں کنجِ لب بستہ کی صورت نہ رہیں کیوں محمود
حرف ِ حق کوئی نہیں ذات کے آئینے میں واہ واہ۔۔۔ سبحان اللہ جی خوش ہو گیا۔ پہلا شعر تو غالبا زرداری صاحب کی طرف تولد ہونا تھا آپ کے ہاں آ گیا۔ دوسرا مشرف صاحب سے تعلق رکھتا ہے۔ تیسرا نواز شریف کی بابت ہے۔ چوتھا مولانا فضل الرحمان کی بیاض سے نقل شدہ معلوم ہوتا ہے۔
میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں ایک تصویر خدوخال کی خواہاں ہے مگر اور بھی عکس ہیں صدمات کے آئینے میں کنجِ لب بستہ کی صورت نہ رہیں کیوں محمود حرف ِ حق کوئی نہیں ذات کے آئینے میں
بہت اچھا خیال ہے اس شعر میں لیکن بندش اور الفاظ کی نشست اور صنعتِ رعایت لفظی کے استعمال نے حجازی صاحب کا دھیان زرداری کی طرف متوجہ کیا تو میرا عورتوں کی مشہورِ زمانہ (عورتوں سے معذرت کے ساتھ) "ہاں" اور "ناں" کی طرف اور بس۔ مجھے پورا یقین ہے کہ "اثبات کے آئینے میں" ٹکڑے کے ساتھ آپ اس شعر کو بہت بہتر کہہ سکتے ہیں۔
اس شعر میں "سالِ رفتہ" کو "عمرِ رفتہ" یا اسی قبیل کے کسی لفظ کے ساتھ بدلا جائے تو دوسرے مصرعے میں موجود "روح" کے ساتھ اتصال کر کے شاید اس شعر میں مزید گہرائی اور گیرائی آ جائے۔ بہرحال یہ میری انتہائی ذاتی رائے ہے اور امید ہے کہ برا نہیں مانیں گے۔ والسلام
فرخ منظور — مئی 12، 2008 5:55 شام
بہت اچھی غزل ہے مغل صاحب اور وارث صاحب کا کہنا بھی کافی معنی رکھتا ہے - بہت شکریہ!
الف عین — مئی 12، 2008 6:40 شام
بہت خوب مغل۔ واقعی عم،دہ غزل ہے۔ وارث کا مشورہ بھی درست ہے۔ ویسے بظاہر اس میں کچھ خامی نظر تو نہیںآتی جب تک کہ کوے دھیان مبذول نہ کرائے!!
مغزل — اگست 18، 2008 7:32 صبح
بہت شکریہ فرخ صاحب ، وارث صاحب اور الف عین (بابا جانی)
نوید صادق — اگست 24، 2008 9:58 صبح
بہت خوب، مغل صاحب۔ میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت
میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں
بہت بہت شکریہ نوید صادق صاحب۔ حوصلہ افزائی کیلیے ممنون ہوں۔
--------------------------------------------------------
وارث صاحب کی نشاندہی پر تبدیلیاں کردی گئی ہیں ۔ سرا پا تشکر ہوں
ماشااللہ مغل بھائی بہت خوب کہی غزل آئنے میں مکافات اور اثبات کا جو ذکر ہے بہت خوب ہے پوری کی پوری غزل کمال ہے
الف عین — جنوری 17، 2009 11:33 شام
یہ کیا۔۔۔ ابھی اس غزل میں ایک غلطی نظر آئی۔۔۔ وجہ۔۔۔۔ تمیاری تدوین کہ جن لوگوں نے اس شعر کو کوٹ کیا ہے، وہ پرانا اور درست روپ ہے۔
ایک بھی رنگ نہیں صدمات کے آئینے میں
بحر سے کارج ہو گیا ہے۔۔۔ رنگ کا گاف گرانا جائز نہیں۔
خرم شہزاد خرم — جنوری 20، 2009 8:51 صبح
جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں ابھی تنقید یا کوئی خامی نکالنے کے قابل نہیں ہوں لیکن غزل کی پسندگی کا اظہار تو کر سکتا ہوں غزل تو ساری ماشاءاللہ بہت پیاری ہے یہ شعر تو مجھے بہت ہی پیارا لگا میری تصویر سے ملتی نہیں میری صورت
میں نے دیکھا ہے مکافات کے آئینے میں مغل بھائی آپ شاعری سے نوازت رہا کریں شکریہ