یہ قحطِ سماعت ہے کہ بے وقت صدا ہوں
یا میں کسی مجذوب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہوں اک شورِ ملامت ہے کہ لکھّا نہیں جاتا
اک سوزِ دروں ہے کہ مٹانے پہ تلا ہوں رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت
مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں آ ! تُو ہی سنبھال آ کے مجھے فرصت ِ انکار
میں دار و رسن کے لیے تیّار کھڑا ہوں سایہ بھی جھلستا ہوا پانی کی طرف جائے
کیا میں کوئی سورج لیے کاندھوں پہ کھڑا ہوں دو راہا اگر ہوتا، کوئی بات تھی محمود
میں جبر کے گرداب میں صدیوں سے پھنسا ہوں محمد محمود مغل
گرو جی — جون 11، 2008 10:26 صبح
واہ کیا کلام ہے
یہ میں نے وطیرہ بنا لیا ہے جب سے میری تنقید احباب کو بری لگنا شروع ہوئی ہے
جیا راؤ — جون 11، 2008 10:30 صبح
رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت
مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں بہت خوب !
عدنان صابری بھیا
یہ میرے ساتھ ناانصافی ہے ۔۔
دیگر کسی معاملے کا مجھ پر اطلاق مت کیجئے۔۔
یہاں پیش کرنے کا مقصد ہی نقد و نظر ہے۔۔
دگر کچھ بھی نہیں۔۔ کیونکہ : داد و دہش کی ہم کو تمنا نہیں مغل
کرتے رہیں گے مشقِ سخن تندہی سے ہم
جیہ — جون 11، 2008 12:32 شام
واہ مغل بھائی، اچھی غزل ہے۔۔۔۔ خاص کر مطلع ۔
مگر ہم تو بقول غالب کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
فرخ منظور — جون 11، 2008 12:34 شام
مبارک ہو مغل صاحب- بہت عمدہ غزل ہے -
زھرا علوی — جون 11، 2008 12:40 شام
بہت عمدہ مغل صاحب۔۔۔۔۔
شکریہ قبول کیجیے
ابوشامل — جون 11، 2008 12:45 شام
رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت
مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں
ارے ارے ارے۔۔
زہے نصیب جیہ جی جی ۔۔
وہ آئے ہماری پرسشِ احوال کو مگر۔۔۔۔۔۔ لگتا نہیں ہے تھوڑی سی تاخیر ہوگئی ؟؟
خیر ۔۔۔ بہت بہت شکریہ جی جی ۔۔ آپ نے بندے کا سیروں خون بڑھا دیا ہے۔۔
ملطع کی پسندیدگی کیلئے بالخصوص ممنون ہوں۔۔
اور چچا کی کیا بات ہے ۔۔۔ واہ
بہت بہت شکریہ فہد بھائی۔۔
یہ محض اللہ کا کرم ہے بندہ اس قابل نہیں کہ کچھ اچھا لکھ سکے
ہر آنے والا خیال اور لفظ اللہ ہی کی عطا ہے ۔۔
شکر ہے پروردگار کا
آپ کی محبتوں کیلئے ممنون و مشکور ہوں۔۔
ایک بار پھر شکریہ
محمداحمد — جون 11، 2008 1:05 شام
واہ واہ مغل بھائی کیا کہنے ! اس قدر دلفریب اور مرصع غزل پیش کی ہے آپ نے پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک اور لاجواب کردینے والا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ شعر تو بہت ہی عمدہ ہے۔ رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت
مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں ناچیز کی جانب سے نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔ قبول فرمایئے۔ مخلص
محمد احمد
بہت بہت شکریہ وارث صاحب
محبت ہے آپ کی ۔۔
حوصلہ افزائی کیلئے ممنون ہوں
۔۔۔ایک گزارش کہ آپ اور الف عین سے مجھے یہ توقع رہی کہ آپ اس پر کچھ بات کریں گے ۔نہ کہ مبارکباد اور ستائشی جملے ادا کرتے ہوئے حوصلہ بڑھائیں گے۔ میں یہاں کلام محض داد و تحسین سمیٹنے کیلئے نہیں پیش کرتا ۔ ۔۔ چونکہ میں ہنوز طفلِ مکتب ہوں ۔۔۔ اس لیئے چاہتا ہوں کہ اس پر بات کی جائے ۔۔۔ تاکہ میں کچھ سیکھ سکوں ۔۔سو امید ہے کہ آپ اور اعجاز صاحب غزل پر پوری طرح نشتر زنی فرمائیں گے ۔۔
باقی احباب کو بھی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے۔۔
ایم اے راجا — جون 11، 2008 2:44 شام
بہت خوب محمود بھائی، بہت خوب غزل ہے خاص طور پر یہ اشعار جو دل کو چھو گئے، اک شورِ ملامت ہے کہ لکھّا نہیں جاتا
اک سوزِ دروں ہے کہ مٹانے پہ تلا ہوں رونے کوئی آتا نہیں، ملتی نہیں فرصت
مدّت سے میں اس عہد کے لاشے پہ کھڑا ہوں واہ واہ، حقیقت کو کیا ہی جامہءِ الفاظ دیا ہے واہ واہ