ایک تازہ غزل اور حاضر ہے آپ کی خدمت میں از: بسمل

مزمل شیخ بسمل — جولائی 15، 2012 10:09 صبح
غزل​
(مزمل شیخ بسمل)
اہلِ زباں نہیں تھے سخن ور میں کچھ نہ تھا​
الفاظ کے معانی و مصدر میں کچھ نہ تھا​
جز کشت و خون اسکے مقدر میں کچھ نہ تھا​
کیا لے گیا ہے دستِ سکندر مین کچھ نہ تھا​
پینے کی ابتدا ہوئی ساقی کی آنکھ سے​
کہتا ہے دور مینہ و ساغر میں کچھ نہ تھا​
اسکا تو آب آبِ بقا پے ہے طعنہ زن​
کیا کہہ رہے ہیں آپ کے خنجر میں کچھ نہ تھا​
پرواز سے تو میری برستا رہا ہے ہن​
سیّار نے جو قید کیا پر میں کچھ نہ تھا​
جس شے میں ہے چمک وہ اسی کے دیئے کی ہے​
جب آنکھ بند تھی کسی اختر میں کچھ نہ تھا​
تر دامنی میں ڈوب کے ایسا ہوا صفا​
روزِ حساب جرم کے دفتر میں کچھ نہ تھا​
سرمہ مرے گناہ کا اسود نے لے لیا​
نزدیک اسکے طور کے پتھر میں کچھ نہ تھا​
قولِ خطیب تولے ہیں میزانِ حق پہ جب​
تقلید کے مساجد و منبر میں کچھ نہ تھا​
گویا ہے پاس ہی کوئی محسوس یہ ہوا​
منہ پھیر کر جو دیکھا برابر میں کچھ نہ تھا​
کھوج اسکا پا لیا ہے یہ ہے وقت کی صدا​
جا بدنصیب تیرے مقدر میں کچھ نہ تھا​
جس سے جو چاہا کام لیا اسکی شان ہے​
بسمل بغیر اسکے قلندر میں کچھ نہ تھا​
مزمل شیخ بسمل — جولائی 15، 2012 10:34 صبح
شکریہ بلال بھائی اور ذیشان بھائی
الف نظامی — اگست 5، 2012 9:29 صبح
گویا ہے پاس ہی کوئی ،محسوس یہ ہوا
منہ پھیر کر جو دیکھا ، برابر میں کچھ نہ تھا
مزمل شیخ بسمل — اگست 5، 2012 9:31 صبح
گویا ہے پاس ہی کوئی ،محسوس یہ ہوا
منہ پھیر کر جو دیکھا ، برابر میں کچھ نہ تھا

یہی تو افسوس ہے۔
اسامہ جمشید — اگست 17، 2012 7:54 صبح
اچھي غزل هے ، معاف كرنا ميرا شاعري ميں تجربه نهيں مگر شايد غزل ميں چھوٹي سا نقص هے
تقلید کے مساجد و منبر پہ کچھ نہ تھا
غزل كے تمام رديف يه هيں : ميں كچھ نه تھا
جبكه يهاں په كچھ نه تھا ۔
شاہد شاہنواز — اگست 17، 2012 8:04 صبح
ٹائپنگ مس ٹیک لگتی ہے اسامہ جمشید صاحب۔۔۔ باقی تو غزل بہت اچھی لگی ہمیں۔۔۔ بہت سی داد۔۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 17، 2012 8:12 صبح
اچھي غزل هے ، معاف كرنا ميرا شاعري ميں تجربه نهيں مگر شايد غزل ميں چھوٹي سا نقص هے
تقلید کے مساجد و منبر پہ کچھ نہ تھا
غزل كے تمام رديف يه هيں : ميں كچھ نه تھا
جبكه يهاں په كچھ نه تھا ۔

ٹائپنگ مس ٹیک لگتی ہے اسامہ جمشید صاحب۔۔۔ باقی تو غزل بہت اچھی لگی ہمیں۔۔۔ بہت سی داد۔۔

یہ ٹائپو ہی ہے۔ رپورٹ کردی ہے جلد ہی ٹھیک بھی ہو جائیگا۔ :)
آپ کا شکریہ اس جانب متوجہ کرانے کے لئے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 17، 2012 8:13 صبح
ٹائپنگ مس ٹیک لگتی ہے اسامہ جمشید صاحب۔۔۔ باقی تو غزل بہت اچھی لگی ہمیں۔۔۔ بہت سی داد۔۔

آپ کی محبت جناب۔ :)
جزاک اللہ خیراً
شاہد شاہنواز — اگست 30، 2012 3:04 شام
جی۔۔۔ میں اتفاق کرتا ہوں۔۔۔ میں نے بھی اسی وزن پر لکھی تھی غزل۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 30، 2012 4:04 شام
واہ وا جناب بہت اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجیے
مزمل شیخ بسمل — اگست 30، 2012 4:10 شام
واہ وا جناب بہت اچھی غزل ہے۔ داد قبول کیجیے

شکریہ خلیل بھیا۔:)
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 16، 2012 11:41 صبح
فاتح

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B2-%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84.52703/