ایک تازہ غزل سے چند اشعار ““حضرت الف عین““ کی نزر

ش زاد — اکتوبر 18، 2008 1:23 شام
ایک تازہ غزل سے چند اشعار ““حضرت الف عین““ کی نزر
سِتارہ در سِتارہ ہوں سفر میں
میں گرداں آسماں در آسماں ہوں
بدن تھا پِھر ہوا ہوں راکھ جل کر
اب اپنی راکھ سے اُٹھتا دُھواں ہوں
میں یوں شہزاد بویا جا رہا ہوں
نِشانِ نخلِ راہِ رفتگاں ہوں
ش زاد
زھرا علوی — اکتوبر 18، 2008 6:13 شام
بدن تھا پِھر ہوا ہوں راکھ جل کر
اب اپنی راکھ سے اُٹھتا دُھواں ہوں
بہت خوبصورت اشعار ہیں شہزاد صاخب۔۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 18، 2008 7:17 شام
اچھے اشعار ہیں شہزاد۔ غزل مکمل کرو۔ (اب میں بے تکلفی پر اتر آیا ہوں کہ تم سے مخاطب ہوں۔۔۔
اپنے دوست بانی کی وہ مشہور غزل یاد آ گئی جس کی ردیف افق تا افق ہے۔ دیکھیں میری ای بک بانی کے حرف معتبر کا انتکاب
ش زاد — اکتوبر 18، 2008 8:59 شام
بدن تھا پِھر ہوا ہوں راکھ جل کر
اب اپنی راکھ سے اُٹھتا دُھواں ہوں
بہت خوبصورت اشعار ہیں شہزاد صاخب۔۔۔۔۔

بہت بہت نوازش محترمہ
اپنی قیمتی آرء سے نوازتی رہیے شکریہ
ش زاد — اکتوبر 18، 2008 9:02 شام
اچھے اشعار ہیں شہزاد۔ غزل مکمل کرو۔ (اب میں بے تکلفی پر اتر آیا ہوں کہ تم سے مخاطب ہوں۔۔۔
اپنے دوست بانی کی وہ مشہور غزل یاد آ گئی جس کی ردیف افق تا افق ہے۔ دیکھیں میری ای بک بانی کے حرف معتبر کا انتکاب

بہت بہت شکریہ سرکار بےشک بے تکلُف ہو جایے مجھے اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%B3%DB%92-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%E2%80%9C%E2%80%9C%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%B9%DB%8C%D9%86%E2%80%9C%E2%80%9C-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B2%D8%B1.15725/