ایک تازہ غزل۔ کوہ کن کے خمار کی باتیں

سید عاطف علی — ستمبر 26، 2020 4:24 شام
کوہ کن کے خمار کی باتیں
سنگ،آہن، شرار کی باتیں
چھوڑو سب کاروبار کی باتیں
دارِ ناپائدار کی باتیں
اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں
پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور
سنگ لوح مزار کی باتیں
زندگی نے بتائیں شام کے وقت
تنگ ہوتے حصار کی باتیں
کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں
دامنِ تار تار کی باتیں
شبِ تیرہ کو رکھتی ہیں روشن
گیسوئے تابدار کی باتیں
وہ فقیروں میں آکے کرتے ہیں
کرسی و اقتدار کی باتیں
یہ وظیفہ ہے اب مرا شب و روز
اس کے لیل و نہار کی باتیں
کیوں طبیعت پہ جبر کرتے ہو
کر کے تم اختیار کی باتیں
چین لینے نہ دیں گی تجھ کو بھی
تیرے اک جاں نثار کی باتیں
پھر تبسم زدہ ترا وعدہ
پھر ترے انتظار کی باتیں
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
جز ترے ہر کوئی سمجھتا ہے
تیرے اس دل فگار کی باتیں
ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں​
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 26، 2020 4:34 شام
خوبصورت خوبصورت!!!
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں

کیا خوب۔ واہ
احمد محمد — ستمبر 26، 2020 4:35 شام
شاہ صاحب! بہت اعلیٰ۔
محمد عبدالرؤوف — ستمبر 26، 2020 6:29 شام
بہت خوب، اعلیٰ
اگر اپنی کم علمی پر شرمسار ہوا جائے تو سیکھنے کا عمل یقیناً رک جائے گا اس لیے بے دھڑک سوال کر رہا ہوں کہ :)
ذرا اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ تاتاری ہرن میں کچھ منفرد خاصیت ہوتی ہے؟
سید عاطف علی — ستمبر 26، 2020 6:36 شام
ذرا اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ تاتاری ہرن میں کچھ منفرد خاصیت ہوتی ہے؟
یہ غزالانِ تاتار اپنی خوبصورتی کے علاوہ اپنے نافۂ مشک کی وجہ سے بھی ممتاز ہو تے ہیں ۔
سید عاطف علی — ستمبر 26، 2020 6:40 شام
یہ غزالانِ تاتار اپنی خوبصورتی کے علاوہ اپنے نافۂ مشک کی وجہ سے بھی ممتاز ہو تے ہیں ۔
میرے خیال میں ان کی بابت کچھ اسطوری نوعیت کی روایتی خصوصیات بھی مذکور ہیں مثلاً جب نافہ میں مشک بھر جاتا ہے سے یہ سونا بند کر دیتا ہے اور اسے ہر دم اپنے نافۂ مشک کی فکر رہتی ہے تا آنکہ یہ شکار نہ ہو جائے ۔
سید عاطف علی — ستمبر 26، 2020 11:15 شام
خوبصورت خوبصورت!!!
کیا خوب۔ واہ
شکریہ اور صد آداب خلیل بھائی ۔
صابرہ امین — ستمبر 27، 2020 2:17 صبح

اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
شاندار اور خوبصورت باتیں ۔ ۔ ڈھیروں داد
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 28، 2020 12:12 صبح
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عاطف بھائی ! ویسے یہ غزل آپ کے عمومی انداز سے ہٹ کر ہے اور خوب ہے ۔
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
کیا اچھا کہا ہے! واہ!
ویسے عاطف بھائی ، کیا سنگِ مزار اور لوحِ مزار ایک ہی بات نہیں ؟!
محمد وارث — ستمبر 28، 2020 6:22 صبح
عمدہ رواں غزل ہے سید صاحب، بہت خوب۔
سید ذیشان — ستمبر 28، 2020 7:08 صبح
بہت عمدہ سید عاطف علی بھائی
سیما علی — ستمبر 28، 2020 7:13 صبح
ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں
واہ واہ
بھیا آپ کے مزاج سے ہٹ کے لیکن بہت شاندار:flower:
:flower::flower::flower::flower:ڈھیروں دعایئں۔۔۔
سید عاطف علی — ستمبر 28، 2020 7:40 صبح
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عاطف بھائی ! ویسے یہ غزل آپ کے عمومی انداز سے ہٹ کر ہے اور خوب ہے ۔
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
کیا اچھا کہا ہے! واہ!
ویسے عاطف بھائی ، کیا سنگِ مزار اور لوحِ مزار ایک ہی بات نہیں ؟!
بہت شکریہ اور بہت آداب ظہیر بھائی ۔
بات محاوراتی طور پر تو کافی حد تک ٹھیک ہے (خصوصاً مزار کے ساتھ) لیکن لوح، سنگ سے زیادہ با معنی اور الگ چیز ہے ۔پہلے نقش لوح مزار اور حرف لوح مزار سوچا تھا لیکن پھر یہ نہ جانے یہ کیوں رکھ دیا ۔
اور بس یونہی دو تین اشعار زبان پر آگئے تو غزل کی شکل بنا ڈالی ۔ :) آپ کی پذیرائی سے کاوش وصول ہوئی ۔
سید عاطف علی — ستمبر 28، 2020 5:52 شام
شکریہ و آداب عبدالرؤوف صاحب ۔
سید عاطف علی — اکتوبر 2، 2020 10:52 صبح
شاہ صاحب! بہت اعلیٰ۔
بہت شکریہ و آداب احمد صاحب۔
سید عاطف علی — اکتوبر 2، 2020 10:53 صبح
عمدہ رواں غزل ہے سید صاحب، بہت خوب۔
آداب وارث بھائی ۔ سلامت رہیں ۔
سید عاطف علی — اکتوبر 2، 2020 11:10 صبح
شاندار اور خوبصورت باتیں ۔ ۔ ڈھیروں داد
شکریہ و آداب۔ صابرہ بٹیا۔ جیتی رہیئے ۔
سید عاطف علی — اکتوبر 2، 2020 11:12 صبح
بھیا آپ کے مزاج سے ہٹ کے لیکن بہت شاندار:flower:
آداب و شکریہ آپا ۔ ہمیشہ سلامت رہیں ۔
امین شارق — اکتوبر 2، 2020 11:15 صبح
کوہ کن کے خمار کی باتیں
سنگ،آہن، شرار کی باتیں
چھوڑو سب کاروبار کی باتیں
دارِ ناپائدار کی باتیں
اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں
پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور
سنگ لوح مزار کی باتیں
زندگی نے بتائیں شام کے وقت
تنگ ہوتے حصار کی باتیں
کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں
دامنِ تار تار کی باتیں
شبِ تیرہ کو رکھتی ہیں روشن
گیسوئے تابدار کی باتیں
وہ فقیروں میں آکے کرتے ہیں
کرسی و اقتدار کی باتیں
یہ وظیفہ ہے اب مرا شب و روز
اس کے لیل و نہار کی باتیں
کیوں طبیعت پہ جبر کرتے ہو
کر کے تم اختیار کی باتیں
چین لینے نہ دیں گی تجھ کو بھی
تیرے اک جاں نثار کی باتیں
پھر تبسم زدہ ترا وعدہ
پھر ترے انتظار کی باتیں
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
جز ترے ہر کوئی سمجھتا ہے
تیرے اس دل فگار کی باتیں
ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں​
بہت خوب، اعلیٰ
سید عاطف علی — اکتوبر 2، 2020 1:07 شام
آداب و شکریہ امین شارق صاحب ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94-%DA%A9%D9%88%DB%81-%DA%A9%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA.113338/