ایک شعر قندیل بلوچ کو خراج عقیدت

خورشید بھارتی — جولائی 17، 2016 12:23 شام
آج رب سے میں اپنے پو چھونگی
کیا ضرورت تھی بھائی دینے کی
خورشید بھارتی
محمد امین صدیق — جولائی 17، 2016 1:33 شام
آج رب سے میں اپنے پو چھونگی
کیا ضرورت تھی بھائی دینے کی
خورشید بھارتی
پونچھ لے آنسو ان آنکھوں سے
آنسو نہیں یہ موتی ہیں
جن کے بھائی سلامت ہوں
وہ بہنیں کب روتی ہیں
ناعمہ عزیز — جولائی 17، 2016 2:43 شام
کبھی تم نے یہ سوچا ہے
کہ بہنوں کی ادائیں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں
یہ خود بھوکی بھی رہتی ہیں
یہ خود پیاسی بھی رہتی ہیں
جھلستی دھوپ میں پریاں
یہ چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی تم نے یہ سوچا ہے
تمھاری عزتوں کی چادروں کی
جان سے بڑھ کر حفاظت کرتی رہتی ہیں
تمھاری غیرتوں کے نام پر قربان ہوتی ہیں
یہ اپنی خواہشوں کے بھی
گلے تک گھونٹ دیتی ہیں
یہ پھولوں سے کہیں نازک
تمھارا مان ہوتی ہیں
کبھی تم نے یہ سوچاہے ؟
تمھارے غم میں اکثر ہی
یہ اٹھ اٹھ کر جو راتوں کو
یونہی تنہا سی بے آواز روتی ہیں !
تمھارے حصے کے سب درد
اپنی قسمتوں میں لکھے جانے کی
دعائیں رب سے کرتی ہیں!
یہ اپنے حصے کی خوشیاں
بھی تم پر وار دیتی ہیں
کبھی تم نے یہ سوچا ہے
یہ کیونکر ایسا کرتی ہیں؟
ارے کیونکہ
یہ ماں کا روپ ہوتی ہیں
یہ ماؤں جیسی ہوتی ہیں
ناعمہ عزیز
ناعمہ عزیز — جولائی 17، 2016 2:44 شام
اور کچھ ہو نا ہو غیرت کے نام پر قربان ضرور ہو گئی وہ....
پردیسی — جولائی 18، 2016 7:51 شام
آج رب سے میں اپنے پو چھونگی
کیا ضرورت تھی بھائی دینے کی
خورشید بھارتی

پوچھ لو جب اپنے خدا سے تم
کیا ضرورت تھی بھائی دینے کی
جو بھی جواب ملے گا تمہیں
رہ جاؤ گی اپنے سوال میں گم
پردیسی پاکستانی​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D9%82%D9%86%D8%AF%DB%8C%D9%84-%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86-%DA%A9%D9%88-%D8%AE%D8%B1%D8%A7%D8%AC-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%D8%AA.90997/