ایک طوفاں ہے بے حیائی کا ۔

عظیم — اکتوبر 5، 2017 1:09 شام

ایک طوفاں ہے بے حیائی کا
اس پہ دشمن ہے بھائی بھائی کا
ڈر نہ ہو جان کا تو ہر کوئی
دعوی کرتا ہے بس خدائی کا
روکتے ہو کسی غریب کو کیوں
جب ارادہ کرے بھلائی کا
کتنا آساں ہے راستہ، ہے خبر ؟
آج کے دور میں برائی کا
کاٹنا چاہتے ہو دوسرے ہاتھ
خامہ ٹوکا نہیں قصائی کا
عشق بس کی نہیں ہے اس کے بات
جس کو خدشہ ہو جگ ہنسائی کا
چاہتا ہوں وہ یوں اسیر کرے
سوچ پاؤں نہ کچھ رہائی کا
*****
الف عین — اکتوبر 9، 2017 10:45 صبح
واہ واہ، یہ تو اچھی غزل تھی۔ میرے دیکھنے سے کیسے رہ گئی۔
فاخر رضا — اکتوبر 9، 2017 11:27 صبح

ایک طوفاں ہے بے حیائی کا
اس پہ دشمن ہے بھائی بھائی کا
ڈر نہ ہو جان کا تو ہر کوئی
دعوی کرتا ہے بس خدائی کا
روکتے ہو کسی غریب کو کیوں
جب ارادہ کرے بھلائی کا
کتنا آساں ہے راستہ، ہے خبر ؟
آج کے دور میں برائی کا
کاٹنا چاہتے ہو دوسرے ہاتھ
خامہ ٹوکا نہیں قصائی کا
عشق بس کی نہیں ہے اس کے بات
جس کو خدشہ ہو جگ ہنسائی کا
چاہتا ہوں وہ یوں اسیر کرے
سوچ پاؤں نہ کچھ رہائی کا
*****
زبردست
خامہ ٹوکا نہیں قصائی کا
اسکا مطلب بتا دیں
فہد اشرف — اکتوبر 9، 2017 12:16 شام
زبردست
خامہ ٹوکا نہیں قصائی کا
اسکا مطلب بتا دیں
کہیں پڑھا تھا کہ قصائی کا صحیح املا قسائی ہوتا ہے۔
عظیم — اکتوبر 9، 2017 1:05 شام
زبردست
خامہ ٹوکا نہیں قصائی کا
اسکا مطلب بتا دیں
مطلب کہ قلم قصائی کا ٹوکا نہیں ہے جس سے دوسرے لکھنے والوں کے ہاتھ کاٹے جائیں ۔ یعنی زور دکھایا جائے ۔
فہد اشرف — اکتوبر 9، 2017 1:30 شام
مطلب کہ قلم قصائی کا ٹوکا نہیں ہے جس سے دوسرے لکھنے والوں کے ہاتھ کاٹے جائیں ۔ یعنی زور دکھایا جائے ۔
ٹوکا ایک قسم کا کاٹنے کا آلہ ہوتا ہے نا؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%A8%DB%92-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%DB%94.98544/