مہک بدوش خراماں انیس ِجاں کے لیے
صبا چلی ہے کسی یارِمہرباں کے لیے طویل عمر کی سب مانگتے دعا کیوں ہیں
رہِ حیات ہے گرچہ اک امتحاں کے لیے یہ فیض ہے ترے وعدے کا اے مرے راہبر
کہ دربدر ہوں ہوا کی طرح اماں کے لیے جو ہو سکے تو کوئ حرفِ معتبر بھیجو
اژل سے میری ادھوری سی داستاں کے لیے ستارہء سرِ مژگاں سنبھال کر رکھنا
بنے گا کل یہی تمہید داستاں کے لیے سسکتی دیکھ رہی ہوں میں سانس حرفوں کی
کوئ کرن نہ رہی قریہِ بیاں کے لیے اتر رہی ہے دریچہءِ خواب میں اب شام
کہ آرزو نہ رہی اب تو سائبا ں کے لیے گئے دنوں کی رفاقت ہے اور ہم تنہا
تمام سود تھے شائد اسی زیاں کے لیے زہرا علوی
حسن علوی — فروری 17، 2008 1:20 شام
بہت اعلٰی زھرا، کیا یہ آپ کا اپنا کلام ھے؟ ایک شعر بہت خوب کہا:
جو ہو سکے تو کوئ حرفِ معتبر بھیجو
اذل سے میری ادھوری سی داستاں کے لیے
زھرا علوی — فروری 17، 2008 1:24 شام
میرے نام سے ہے تو میرا ہی ہو گا نا؟
حسن علوی — فروری 17، 2008 1:37 شام
بہت خوب؛ تو پھر محفل کو اپنے کلام سے مستفید کرتی رہیئے گا گاہے بہ گاہے۔ ویسے قانون اور شاعری کافی مختلف شعبے ہیں
زھرا علوی — فروری 17، 2008 1:51 شام
ھاں شعبے تو مختلف ہیں مگر بنیاد دونوں کی ایک ہی ہے۔۔۔
دونوں ہی حقئاق کی عکاسی کرتے ھیں۔۔۔۔۔
حقائق کی عکاسی؟
چلیئے شاعری کے متعلق تو میں کسی حد تک مان بھی لوں مگر یہ وکالت۔۔۔۔۔۔۔۔
فرخ منظور — فروری 17، 2008 2:06 شام
واہ خوب ! آپ اچھا سوچتی ہیں -
زھرا علوی — فروری 17، 2008 4:57 شام
جناب میں نے بنیاد ایک ہونے کی بات کی ہے۔۔۔۔۔
قانون کا شعبہ ہے ہی حقائق کو منظرِ عام پہ لانے کے لیے اور کچھ ایسا ہی کام شاعری بھی کرتی ہے۔۔۔
گو مقصود ایک نہیں مگر کام ایک ہی ہے۔۔۔۔۔۔
ابن سعید — فروری 17، 2008 4:58 شام
میں تو اس نظم پر پہلے بھی خاصی داد دے چکا ہوں، پر حقیقت یہ ہے کہ مزید اتنی ہی داد اور بھی دیدوں تو بھی حق ادا نا ہو۔
سارہ خان — فروری 17، 2008 5:01 شام
زبردست لکھا ہے زہرا ۔۔۔ :clapp:
الف عین — فروری 17، 2008 6:20 شام
ستارۂ سرِ مژگاں کی ترکیب زبردست ہے زہرہ۔ غزل مجموعی طور پر بھی بہت اچھی ہے۔۔ مشورہ دوں گا کہ جب اپنا مجموعہ چھپواؤ تو یہی کتاب کا نام رکھ دو۔ ستارۂ سرِ مژگاں۔۔۔۔
شمشاد — فروری 17، 2008 6:55 شام
بہت اچھی شاعری کے ساتھ ساتھ املا بھی بالکل صحیح ہے۔
محمد وارث — فروری 17، 2008 7:38 شام
واہ واہ واہ بہت خوبصورت غزل ہے سبحان اللہ، سبھی اشعار لا جواب ہیں ماشاءاللہ۔ بہت داد قبول کیجیئے۔ اگر آپ مندرجہ ذیل اشعار میں سے ٹائپو دور کر دیں تو اس غزل کا نکھار اور بڑھ جائے گا۔
بحر کی مناسبت سے 'تیرے' اور 'میرے' دونوں کو 'ترے' اور 'مرے' ہونا چاہیئے، اور 'طرع' اور 'اذل' طرح اور ازل ہیں۔ امید ہے آپ اپنے خوبصورت کلام سے اس محفل کو نوازتی رہیں گی۔ والسلام۔
محمد نعمان — فروری 18، 2008 7:27 صبح
واہ کیا کھنے کیا بات ھے زھرہ:یہ آپکا اپنا کلام ھے؟لگتا نہیں۔۔ایسا لگتا ھے کہ آپ بہت ھی میچور شاعرہ ہیں۔
میں خود بھی شاعری کرتا ھوں۔۔آپ مجھے اپنی شاگردی میںلے لیں
جواب دیجے گا۔پلیز!!!!!!!!
نعمان
زرقا مفتی — فروری 18، 2008 8:38 صبح
بہت خوب
زہرہ صاحبہ اس خوبصورت غزل کے لئے داد قبول کیجئے
آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا
والسلام
زرقا
کیا بات ھے زھرہ:یہ آپکا اپنا کلام ھے؟لگتا نہیں۔۔ایسا لگتا ھے کہ آپ بہت ھی میچور شاعرہ ہیں۔
میں خود بھی شاعری کرتا ھوں۔۔آپ مجھے اپنی شاگردی میںلے لیں
جواب دیجے گا۔پلیز!!!!!!!!
نعمان
نعمان صاحب شاگردی میں بھی آ جایئے گا ذرا پہلے اپنا تعارف تو کروایئے حضور تاکہ ہم بھی آپ کے بارے میں کچھ جان سکیں۔ شکریہ
زھرا علوی — فروری 18، 2008 2:38 شام
تمام ممبران کا فردًا فردًا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں
بھیا سعود آپ کی تعریف اور جزبات پہنچ گئے
اور نعمان صاحب ابھی تو میں خود طالبِ علم ہوں کیا شاگرد بناؤں گی میں۔۔۔۔ ہاں البتہ جہاں جہاں مدد درکار ہو میں حاضر ہوں۔۔۔۔۔
اور آپ سب سے گذارش ہے کہ املا کے لیے مجھے ضرور گا ئیڈ کرتے رہیے گا۔۔۔۔۔۔۔ نیک تمنائیں
یونس رضا — فروری 18، 2008 8:17 شام
لفظوں میں جاذبیت کا ہونا بیان کیئے گئے جذبات کو کافی کومل کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تخلیق کافی سندر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سندرتا کو محفل میں سجانے کا شکریہ قبول کیجیے
محمد نعمان — فروری 19، 2008 9:11 صبح
سلام!
جی ضرور ۔۔۔ میں ڈیرہ اسمایل خان میںریتا ہوں۔ میںبی-ایس-سی آنرز ایگریکلچر کر رہا ہوں۔فاینل ایر میںہوں۔
اب آپ بتایں۔۔۔
الف عین — مارچ 5، 2008 4:55 شام
نعمان۔ آپ اپنا تعارف تعارف والی فورم میں دیں۔۔۔
زہرا۔ یہ غزل اور پہلے کی ’ادھوری نظم‘ سمت‘ کے لئے منتخب کر لی ہے، کچھ معمولی ترمیمات کے ساتھ۔
اس غزل میں ’تیسرے شعر میں ’راہبر‘ نہیں محض ’رہبر‘ بحر میں آتا ہے۔
دریچۂ خواب کی ترکیب اطچھی ہے، لیکن یہاں وزن میں دریچائے خواب آ رہا ہے، اس مصرعے کو میں نے یوں کر دیا ہے:
لو شام اتر رہی ہے خواب کے دریچے سے