ایک غزل

Wajih Bukhari — جنوری 29، 2022 4:23 صبح
چھٹیوں میں لکھی ایک غزل
24 جنوری 2022
۔۔۰ ۔۰۔۔ ۔۔۰ ۔۰۔۔
صبر آزما تھا تیرے چہرے کا طُور کب سے
دل جل گیا تو کیا ہے تھا نا صبور کب سے
کیوں بات بات پر ہے مجھ سے تجھے شکایت
ہر بات ہو گئ ہے میرا قصور کب سے
لمبا سفر ہے لیکن کچھ دیر اب ٹھہر جا
چلتا ہی جا رہا ہوں میں تھک کے چُور کب سے
دنیا کے سامنے تو رہتا ہوں سر اٹھائے
بیٹھا ہوں سر جھکائے تیرے حضور کب سے
سب لوگ منتظر ہیں کب گرم ہو گی محفل
چھلکا نہیں ہے کوئی جامِ سرور کب سے
مانا گریز کرنا تیری حسیں ادا ہے
کچھ پاس اب تو آ جا بیٹھا ہے دور کب سے
سویا ہی تھا ابھی میں جب شور ہو گیا یہ
اٹّھو کہ آ رہی ہے آوازِ صُور کب سے
صابرہ امین — جنوری 29، 2022 8:46 صبح
بہت خوب!
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 31، 2022 9:30 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
اب آئے ہیں تو آتے رہیے گا! :)
Wajih Bukhari — جنوری 31، 2022 11:33 صبح
راحل صاحب، بہت شکریہ۔
انشااللہ
ایس ایس ساگر — جنوری 31، 2022 6:56 شام
صبر آزما تھا تیرے چہرے کا طُور کب سے
دل جل گیا تو کیا ہے تھا نا صبور کب سے
کیوں بات بات پر ہے مجھ سے تجھے شکایت
ہر بات ہو گئ ہے میرا قصور کب سے
لمبا سفر ہے لیکن کچھ دیر اب ٹھہر جا
چلتا ہی جا رہا ہوں میں تھک کے چُور کب سے
دنیا کے سامنے تو رہتا ہوں سر اٹھائے
بیٹھا ہوں سر جھکائے تیرے حضور کب سے
سب لوگ منتظر ہیں کب گرم ہو گی محفل
چھلکا نہیں ہے کوئی جامِ سرور کب سے
مانا گریز کرنا تیری حسیں ادا ہے
کچھ پاس اب تو آ جا بیٹھا ہے دور کب سے
سویا ہی تھا ابھی میں جب شور ہو گیا یہ
اٹّھو کہ آ رہی ہے آوازِ صُور کب سے
بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین۔
Wajih Bukhari — فروری 1، 2022 4:39 صبح
بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین۔
مہربانی۔ آمین
محمد شکیل خورشید — فروری 3، 2022 1:51 شام
نہائت اعلیٰ، ماشا اللہ
عرفان علوی — فروری 6، 2022 5:09 صبح
چھٹیوں میں لکھی ایک غزل
24 جنوری 2022
۔۔۰ ۔۰۔۔ ۔۔۰ ۔۰۔۔
صبر آزما تھا تیرے چہرے کا طُور کب سے
دل جل گیا تو کیا ہے تھا نا صبور کب سے
کیوں بات بات پر ہے مجھ سے تجھے شکایت
ہر بات ہو گئ ہے میرا قصور کب سے
لمبا سفر ہے لیکن کچھ دیر اب ٹھہر جا
چلتا ہی جا رہا ہوں میں تھک کے چُور کب سے
دنیا کے سامنے تو رہتا ہوں سر اٹھائے
بیٹھا ہوں سر جھکائے تیرے حضور کب سے
سب لوگ منتظر ہیں کب گرم ہو گی محفل
چھلکا نہیں ہے کوئی جامِ سرور کب سے
مانا گریز کرنا تیری حسیں ادا ہے
کچھ پاس اب تو آ جا بیٹھا ہے دور کب سے
سویا ہی تھا ابھی میں جب شور ہو گیا یہ
اٹّھو کہ آ رہی ہے آوازِ صُور کب سے
بخاری صاحب ، اچھی غزل ہے .
Wajih Bukhari — فروری 6، 2022 1:49 شام
بخاری صاحب ، اچھی غزل ہے .
بخاری صاحب ، اچھی غزل ہے .

مہربانی جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.118045/