ایک غزل

سعید سعدی — ستمبر 20، 2017 10:30 صبح
بہاروں کے موسم کو کیا ہو گیا ہے
خزاں کا چلن عام سا ہو گیا ہے
کہیں پر زمیں خون میں تر بتر ہے
کہیں سرخ یہ آسماں ہو گیا ہے
ہر اک سمت ہے ظلمتوں کا بسیرا
اجالا تو جیسے خفا ہو گیا ہے
سلگتی ہوئی نفرتوں سے بھرے دل
محبت کا جذبہ ہوا ہو گیا ہے
مفادات اور مصلحت ، خود پرستی
فسوں کیسا جگ میں بپا ہو گیا ہے
چلو سو رہیں اوڑھ کر ہم زمیں کو
کہ دنیا میں جینا سزا ہو گیا ہے
سعیدسعدی
اسد اقبال — اکتوبر 23، 2017 9:55 صبح
بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.98327/