ایک غزل

سعید سعدی — اکتوبر 5، 2017 9:22 صبح
آئے قرار دل کو نہیں احتمال تک
پوچھا نہیں ہے اس نے مرا حال چال تک
اس طور بے خبر وہ مرے حال سے ہوا
آتا نہیں ہے اس کو مرا اب خیال تک
یوں دل میں جا بجا وہ سراپا بکھر گیا
ازبر ہوئے ہیں اس کے مجھے خدوخال تک
خطرات کوئے یار میں ہر اک قدم پہ ہیں
اس میں تو رہ گئے ہیں بڑے باکمال تک
ان دوستوں کے وار میں کیسے سہوں بھلا
اس رزم میں نہیں ہے مرے پاس ڈھال تک
چاہت سے عشق تک کی منازل عجیب ہیں
یہ اک سفر زوال سے ہے لا زوال تک
سعدی یہ دل ہوا ہے ترا چُور اس طرح
ملتی نہیں ہے جس کی جہاں میں مثال تک​
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 5، 2017 9:26 صبح
چاہت سے عشق تک کی منازل عجیب ہیں
یہ اک سفر زوال سے ہے لازوال تک
واہ بھائی عمدہ ۔زبردست
سعید سعدی — اکتوبر 5، 2017 9:51 صبح
واہ بھائی عمدہ ۔زبردست
بہت شکریہ جناب
لئیق احمد — اکتوبر 5، 2017 10:00 صبح
بہت خوب سعید بھائی۔
آپ یہ غزلیں ناپ تول کر کہتے ہیں یعنی فعلولن فعالن وغیرہ سے ناپ کر یا اپنی طبع رواں سے کام لیتے ہوئے ہوئے وزن کا خیال رکھتے ہیں ؟
سعید سعدی — اکتوبر 5، 2017 10:49 صبح
بہت خوب سعید بھائی۔
آپ یہ غزلیں ناپ تول کر کہتے ہیں یعنی فعلولن فعالن وغیرہ سے ناپ کر یا اپنی طبع رواں سے کام لیتے ہوئے ہوئے وزن کا خیال رکھتے ہیں ؟
پذیرائی کا بہت شکریہ...
تھوڑی بہت علمِ عروض کی سوجھ بوجھ رکھتا ہوں..
لئیق احمد — اکتوبر 5، 2017 11:01 صبح
پذیرائی کا بہت شکریہ...
تھوڑی بہت علمِ عروض کی سوجھ بوجھ رکھتا ہوں..
میں تو تھوڑی بہت کی بھی بہت تھوڑی رکھتا ہوں :)
اسد اقبال — اکتوبر 23، 2017 9:38 صبح
بہت خوب سعدی بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.98540/