ایک غزل - اس کے کردار کی اس کے گفتار کی

کاشف اسرار احمد — مئی 22، 2016 10:33 صبح
ایک تازہ غزل پیش کر رہا ہوں۔
تمام احباب کی رائے ، تنقید اور تبصروں کا منتظر رہونگا !
★★★★★★★★★★★★★★★★★★
اُس کے کردار کی اُس کے گفتار کی !
دل میں چبھتی رہی نوک تلوار کی !
آؤ باتیں کریں ، خوب ہنس کر ملیں
کچھ طبیعت ہو آسودہ غمخوار کی !
تلخ یادوں کے دریا سے آگے بڑھے
ہم نے رَو پار کی غم کے مُنجدھار کی !

اب تو برسوں کی دوری پہ ہیں گھر سے ہم
کچھ خبر ہی نہیں یار اغیار کی !

مستقل دے رہا ہے خبر دیس کی
برکتیں عمر میں ہوں اس اخبار کی !

تنگدستی میں دل چاہتا ہے کہ ہم
گھر اٹھا لائیں ہر چیز بازار کی !

سلسلے گمشدہ قوم سے ہیں مرے
اب سند کیا دوں میں اپنے کردار کی !

جس رفاقت کی کاشف یہ تصویر ہے
ان سرابوں سے پسپائی اقرار کی !
سیّد کاشف
★★★★★★★★★★★★★★★★★★
محمد تابش صدیقی — مئی 22، 2016 11:21 صبح
واہ کاشف بھائی بہت خوب
سلسلے گمشدہ قوم سے ہیں مرے
اب سند کیا دوں میں اپنے کردار کی !
کس عمدگی سے کرب کو بیان کیا ہے.
محمد تابش صدیقی — مئی 22، 2016 11:21 صبح
عنوان میں کردار کے بعد الف زائد ہے. درست کر لیں.
الف عین — مئی 22، 2016 9:03 شام
اچھی غزل ہے لیکن گفتار مؤنث ہے۔ ’اس کی گفتار‘ہونا چاہئے تھا
کاشف اسرار احمد — مئی 23، 2016 10:58 صبح
اچھی غزل ہے لیکن گفتار مؤنث ہے۔ ’اس کی گفتار‘ہونا چاہئے تھا
بہت بہتر استاد محترم.
لیکن اب تدوین کا لنک ختم ہو گیا ہے
عباد اللہ — مئی 23، 2016 12:18 شام
واہ
بہت عمدہ غزل ہے
کاشف اسرار احمد — مئی 23، 2016 3:03 شام
عنوان میں کردار کے بعد الف زائد ہے. درست کر لیں.
تابش بھائی میرے لیپ ٹاپ پر تو درست دکھا رہا ہے !
کاشف اسرار احمد — مئی 23، 2016 3:05 شام
مطلع اب یوں پڑھا جائے :
اُس کی گفتار کی، اُس کے کردار کی !
دل میں چبھتی رہی نوک تلوار کی !
شکریہ۔
محمد تابش صدیقی — مئی 23، 2016 3:17 شام
تابش بھائی میرے لیپ ٹاپ پر تو درست دکھا رہا ہے !
پہلے ایسا ہی تھا. اب درست ہے. :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%DA%AF%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C.90024/