ایک غزل احباب کی نذر

اشرف نقوی — اپریل 12، 2015 5:39 شام
دوستی اُس کی اگرچہ ہے پرانی مجھ سے
پھر بھی دریا نے طلب کی ہے نشانی مجھ سے
میں کہ ڈوبا ہوں تو سینے پہ لیے پھرتی ہے
کتنی مانوس ہے لہروں کی روانی مجھ سے

اُڑتے بادل مِری آنکھوں میں اُتر آتے ہیں
اور دریا بھی طلب کرتا ہے پانی مجھ سے
میرے لہجے میں تھی تاثیر کچھ ایسی شب بھر
وقت سُنتا ہی رہا اپنی کہانی مجھ سے

بات کرتے ہوئے لہجے میں تھکن بولتی ہے
چھن گئی عشق میں سب شعلہ بیانی مجھ سے

لفظ نازل ہوں اگر دل پہ غزل کی صورت
بات کرنے چلے آتے ہیں معانی مجھ سے

وہ حکایت کہ جو تحریر سرِ مژگاں ہے
کاش! سُن لیتا کوئی میری زبانی مجھ سے

وہ ستارہ جو فلک پر ہے فروزاں اشرفؔ
آخرش کر ہی گیا نقل مکانی مجھ سے

اشرف نقوی
ادب دوست — اپریل 12، 2015 6:22 شام
بھئی واہ واہ کیا کہنے اشرف بھائی بہت خوب
loneliness4ever — اپریل 12، 2015 7:06 شام
خوش آمدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ
ڈھیروں داد وصول فرمائیں
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2015 7:29 شام
لفظ نازل ہوں اگر دل پہ غزل کی صورت
بات کرنے چلے آتے ہیں معانی مجھ سے


بہت خوب صورت غزل۔ بہت داد قبول ہو جناب اشرف نقوی بھائی
الف عین — اپریل 13، 2015 6:55 صبح
بہت خوب
اشرف نقوی — اپریل 14، 2015 2:30 شام
بھئی واہ واہ کیا کہنے اشرف بھائی بہت خوب
بہت بہت شکریہ جناب الف عین صاحب
اشرف نقوی — اپریل 14، 2015 2:31 شام
بہت بہت شکریہ جناب الف عین صاحب
بہت بہت شکریہ ادب دوست صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلامت رہیں
اشرف نقوی — اپریل 14، 2015 2:32 شام
خوش آمدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ
ڈھیروں داد وصول فرمائیں
بہت بہت شکریہ محمد خلیل الرحمٰن صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B0%D8%B1.81310/