ایک غزل تبصرہ کے لئے

سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 1:27 شام
آس کا دیپ جلایا پھر آج
اک گھروندا سا بنایا پھر آج
تیرے گاؤں سی تھی ساری گلیاں
دل نے اک شہر بسایا پھر آج
بھول جانے کی اسے بھول ہوئی
مجھ سے بچھڑا مرا سایہ پھر آج
تذکرہ اس کا جو لے بیٹھے ہو
اور اگر اس نے جگایا پھر آج
فون بھی بند رہا ہے جاذب
وعدہ کر کے نہیں آیا پھر آج
محمد وارث — دسمبر 16، 2008 2:16 شام
اچھی غزل ہے جاذب صاحب، مقطع خوب ہے :)
سلیمان جاذب — دسمبر 16، 2008 2:23 شام
پسند کرنے کا بہت شکریہ
محمد نعمان — دسمبر 16، 2008 2:56 شام
بہت خوب سلیمان بھائی۔۔۔ واہ
الف عین — دسمبر 16، 2008 3:25 شام
اچھی غزل ہے۔
لفظ گاؤں پر غور کریں۔ اسے بر وزن فعلن باندھا گیا ۔ ’ؤ‘ کو بر وزن فع۔ جب کہ بر وزن فعل ہونا چاہئے گاؤں۔
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 5:58 صبح
اعجاز عبید صاحب کیا گاوں کا وزن فعلن نہیں ہے ؟
گا ون
فع لن
الف عین — دسمبر 17، 2008 2:22 شام
گاؤں کا ’ؤ‘ طویل مصوتہ نظم ہوا ہے جب کہ یہ ’پاؤں‘ کی طرح چھوٹا مصوتہ ہے۔ اسی لئے پرانی اردو میں پانو اور گانو لکھتے تھے۔ اور نون پر جزم لگاتے تھے۔ جو یہاں لگاؤں بھی تو شاید ڈفالٹ فانٹ میں ڈبہ بن جائے گا۔
سلیمان جاذب — دسمبر 17، 2008 3:00 شام
تو آپ کے کہنے کامطلب ہے کہ گاوں لفظ صحیح نہیں ہے ویسے گاوں کا وزن کیا ہو گا؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.17378/