ایک غزل پیش کرنے کی جسارت: رقیبو تمہاری دعا چاہتا ہوں

Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 8:10 صبح
۔۔۔غزل۔۔۔
رقیبو تمہاری دعا چاہتا ہوں
میں حرفِ غلط ہوں مٹا چاہتا ہوں

مجھے بادِ صر صر سے شکوہ نہیں ہے
کہ اجڑا شجر ہوں گرا چاہتا ہوں

مرے سوزِ دل کو نئی آنچ دے جو
مسیحا میں ایسی دوا چاہتا ہوں

تری زلف کو چھیڑے ناز و ادا سے
میں وہ شوخ دستِ صبا چاہتا ہوں

میں شبنم نہیں ہوں جو پھولوں پہ ٹہروں
اک اشکِ گراں ہوں گرا چاہتا ہوں

ملے تارِ ہستی کو مضرابِ سوزاں
میں سازِ عدم ہوں نوا چاہتا ہوں

پکڑ جام و مینا ہٹا زلف و صہبا
ترے در سے ساقی اٹھا چاہتا ہوں

عاصمؔ شمس
10۔2۔16
اکمل زیدی — فروری 11، 2016 8:40 صبح
پہلی بات رقیبوں سے تو دعا ملنے سے رہی دوسری بات غزل کو ہی آپ خود ہی حقیر کہہ رہے ہیں کیوں...اتنی انکساری بھی اچھی نہیں ہوتی ؟ آخری بات بہت عمدہ کہی آپ نے غزل .....
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 8:45 صبح
photo.php
ظہیراحمدظہیر — فروری 11، 2016 3:51 شام
عاصم شمس صاحب ! محفل میں خوش آمدید ! اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آپ کیلئے ! بہت پختگی ہے ! اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ
تری زلف چھیڑے جو ناز و ادا سے
میں وہ شوخ دستِ صبا چاہتا ہوں
زلف چھیڑنا کے بجائے زلف کو چھیڑنا درست محاورہ ہے ۔ اور’’ کو‘‘ کے عدم استعمال کی وجہ سے مصرع میں تعقید آگئی ہے ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ زلف دستِ صبا کو چھیڑ رہی ہے ۔ اس شعر کو دیکھ لیجیے ۔
محمد خرم یاسین — فروری 11، 2016 3:53 شام
۔۔۔غزل۔۔۔
رقیبو تمہاری دعا چاہتا ہوں
میں حرفِ غلط ہوں مٹا چاہتا ہوں

مجھے بادِ صر صر سے شکوہ نہیں ہے
کہ اجڑا شجر ہوں گرا چاہتا ہوں

مرے سوزِ دل کو نئی آنچ دے جو
مسیحا میں ایسی دوا چاہتا ہوں

تری زلف چھیڑے جو ناز و ادا سے
میں وہ شوخ دستِ صبا چاہتا ہوں

میں شبنم نہیں ہوں جو پھولوں پہ ٹہروں
اک اشکِ گراں ہوں گرا چاہتا ہوں

ملے تارِ ہستی کو مضرابِ سوزاں
میں سازِ عدم ہوں نوا چاہتا ہوں

پکڑ جام و مینا ہٹا زلف و صہبا
ترے در سے ساقی اٹھا چاہتا ہوں

عاصمؔ شمس
10۔2۔16

خوبصورت غزل ہے۔ اس میں انفرادیت اجتماعیت سے زیادہ ہے۔ شخصی غزل بھی کہہ سکتے ہیں :)
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 4:42 شام
خوبصورت غزل ہے۔ اس میں انفرادیت اجتماعیت سے زیادہ ہے۔ شخصی غزل بھی کہہ سکتے ہیں :)

سر، پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔ براہ کرام شخصی غزل کی وضاحت کر دیں۔ میں اس اصلاح سے واقف نہیں ہوں۔ بہت نوازش ہو گی۔ شکریہ
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 4:43 شام
عاصم شمس صاحب ! محفل میں خوش آمدید ! اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آپ کیلئے ! بہت پختگی ہے ! اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ
زلف چھیڑنا کے بجائے زلف کو چھیڑنا درست محاورہ ہے ۔ اور’’ کو‘‘ کے عدم استعمال کی وجہ سے مصرع میں تعقید آگئی ہے ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ زلف دستِ صبا کو چھیڑ رہی ہے ۔ اس شعر کو دیکھ لیجیے ۔

تری زلف کو چھیڑے ناز و ادا سے
میں وہ شوق دستِ صبا چاہتا ہوں
سر، بہت بہت شکریہ اصلاح کا۔ بہت نوازش
ابن رضا — فروری 11، 2016 4:46 شام
بہت خوب ہے۔ اپنے کلام پر اعتماد کیجیے اور اسے حقیر مت گردانیے۔ سیکھنے کا سفر تو ساری زندگی جاری رہتا ہے
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 4:48 شام
بہت خوب ہے۔ اپنے کلام پر اعتماد کیجیے اور اسے حقیر مت گردانیے۔ سیکھنے کا سفر تو ساری زندگی جاری رہتا ہے
بہت بہت شکریہ جناب
ظہیراحمدظہیر — فروری 11، 2016 4:49 شام
تری زلف کو چھیڑے ناز و ادا سے
میں وہ شوخ دستِ صبا چاہتا ہوں
سر، بہت بہت شکریہ اصلاح کا۔ بہت نوازش
بھئی ماشاءاللہ آپ تو بہت اچھے شاعر ہیں ۔ اب یوں کیجیے کہ اوپر اپنی غزل میں بھی اس شعر کی تدوین کردیجیے۔ غزل کے نیچے دائیں طرف تدوین کی سہولت موجود ہے اور یہ سہولت صرف چوبیس گھنٹے تک رہتی ہے۔
ابن رضا — فروری 11، 2016 4:55 شام
عنوان میں بھی تدوین کر دیجیے رقیبوں کی جگہ رقیبو! اور حقیر کا لفظ ہٹا دیجیے
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 5:02 شام
عنوان میں بھی تدوین کر دیجیے رقیبوں کی جگہ رقیبو! اور حقیر کا لفظ ہٹا دیجیے
عنوان کس طرح ایڈٹ کروں سمجھ نہیں آ رہا۔
Aasim Shams Aasim — فروری 11، 2016 5:08 شام
عنوان کس طرح ایڈٹ کروں سمجھ نہیں آ رہا۔
ٹھیک ہے ہو گیا۔ شکریہ
محمد خرم یاسین — فروری 12، 2016 2:14 شام
سر، پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔ براہ کرام شخصی غزل کی وضاحت کر دیں۔ میں اس اصلاح سے واقف نہیں ہوں۔ بہت نوازش ہو گی۔ شکریہ

السلام علیکم!
سر ، یہ اصطلاح حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد میں کافی مستعمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غزل میں آپ نے اپنے تاثرات من و عن پیش کیے ہیں۔ دنیا کو کوئی بھی شخص کسی شاعر پر قدغن نہیں لگا سکتا کہ کیا لکھے یا کیا نا لکھے، ہر شاعر کو مکمل اختیار ہے کہ جو چاہے لکھے مگر اصلاح میں کہا جاتا ہے کہ غزل کے اشعار کسی ایک شخص کے جذبات کی ترجمانی کے بجائے یا جز کی ترجمانی کے بجائے کل کی ترجمانی کریں تو زیادہ دیر تک غزل یاد رکھی جاتی ہے اور دہرائی جاتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہی غزلیں زندہ ہیں جن پر جز کے بجائے کل کا گمان گزرتا ہے۔ آپ کی غزل کے سات اشعار میں سے چھ اشعار میں لفظ میں استعمال ہوا، اگرچہ میں کے استعمال میں کل کو بھی بیان کیا جا سکتا ہے اور یہ استعمال غلط نہیں ہوتا لیکن ایسا تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے جیسے یہ ایک شخص کی سر گزشت ہے۔ اگر کچھ غلط لگے تو معذرت۔ آپ لکھتے رہیے۔ میں خود ابھی طالب علم ہوں۔
سلمان حمید — فروری 12، 2016 2:30 شام
بہت خوبصورت :)
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 14، 2016 1:36 شام
تری زلف کو چھیڑے ناز و ادا سے
میں وہ شوق دستِ صبا چاہتا ہوں

پہلے محاورے میں خلل پڑرہا تھا، اب وزن میں کچھ اونچ نیچ ہے۔ جانچ کرلیجے۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 15، 2016 4:46 صبح
پہلے محاورے میں خلل پڑرہا تھا، اب وزن میں کچھ اونچ نیچ ہے۔ جانچ کرلیجے۔
خلیل بھائی ! وزن تو درست لگ رہا ہے اس کا ۔ فعولن فعولن پر ہی بیٹھتا ہے۔ اگرآپ چھیڑے کی ’’ے‘‘ دبنے کی بات کر رہے ہیں تو ایسی کوئی خاص بری نہیں لگ رہی ۔ معمول کے مطابق ہی دب رہی ہے۔ یا آپ اسے کسی اور انداز سے دیکھ رہے ہیں؟
Aasim Shams Aasim — فروری 15، 2016 5:26 صبح
خلیل بھائی ! وزن تو درست لگ رہا ہے اس کا ۔ فعولن فعولن پر ہی بیٹھتا ہے۔ اگرآپ چھیڑے کی ’’ے‘‘ دبنے کی بات کر رہے ہیں تو ایسی کوئی خاص بری نہیں لگ رہی ۔ معمول کے مطابق ہی دب رہی ہے۔ یا آپ اسے کسی اور انداز سے دیکھ رہے ہیں؟

اوزان بالکل درست ہیں۔ بھائی سید ذیشان اصغر کی ویب سائٹ کے مطابق۔ شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A8%D9%88-%D8%AA%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D8%B9%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.87873/