ایک غزل چند اشعار کے اضافوں کے ساتھ

کاشف اسرار احمد — اپریل 14، 2017 7:12 شام
ایک نسبتاََ پرانی غزل چند اشعار کے اضافوں کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔
وہ اپنی ابروِ خمدار کو عنواں میں رکھتے ہیں
تو ہم اب گردشِ پرکار کو امکاں میں رکھتے ہیں
مرے سوزِ دروں کا حال کیا پوچھو، وہ حالت ہے
تپش ایسی تو شعلےِ آتشِ جولاں میں رکھتے ہیں
مماثل ہو نہ جائیں اک چھلکتے جام کے ، سو ہم
تمھاری یاد کو خُفتَہ، شبِ حجراں میں رکھتے ہیں
نفس یک دو نفس کی زندگانی کا بھروسہ کیا
طلب دنیا کی کیوں بندے دلِ ناداں میں رکھتے ہیں
فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ہم ایسی وسعتیں تو تنگئی داماں میں رکھتے ہیں
مجھے دے لذّتِ آشوب وہ لطفِ فُغاں، جس کو
چھپا کر چشمِ آدم سے مَلَک داماں میں رکھتے ہیں
لبِ ساحل سے تھوڑی دور ہے ریگِ رواں پیاسی
اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں
گرہ رشتوں میں ہے کاشف مگر حیرت ہے، ہم پھر بھی
اسے شامل دعاؤں میں ہر اک امکاں میں رکھتے ہیں

سیّد کاشف
14، April 2017
محمد عظیم الدین — اپریل 14، 2017 8:07 شام
فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ہم ایسی وسعتیں تو تنگئی داماں میں رکھتے ہیں
کیا کہنے جناب، بہت خوب۔ داد قبول کیجیے
کاشف اسرار احمد — اپریل 15، 2017 3:28 شام
کیا کہنے جناب، بہت خوب۔ داد قبول کیجیے
نوازش آپ کی عظیم بھائی !
عاطف ملک — اپریل 16، 2017 5:46 صبح
مرے سوزِ دروں کا حال کیا پوچھو، وہ حالت ہے
تپش ایسی تو شعلےِ آتشِ جولاں میں رکھتے ہیں
واہ کیا بات ہے:)
فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ہم ایسی وسعتیں تو تنگئی داماں میں رکھتے ہیں
سب سے اچھا لگا یہ شعر:in-love::in-love::in-love:
مجھے دے لذّتِ آشوب وہ لطفِ فُغاں، جس کو
چھپا کر چشمِ آدم سے مَلَک داماں میں رکھتے ہیں
آشوب اور چشم کو ایک ساتھ دیکھ کر ڈاکٹر خوش ہوا ;):p
بہت اچھی غزل کہی ہے۔
داد قبول کیجیے کاشف بھائی!
کاشف اسرار احمد — اپریل 16، 2017 4:46 شام
واہ کیا بات ہے:)
سب سے اچھا لگا یہ شعر:in-love::in-love::in-love:
آشوب اور چشم کو ایک ساتھ دیکھ کر ڈاکٹر خوش ہوا ;):p
بہت اچھی غزل کہی ہے۔
داد قبول کیجیے کاشف بھائی!
:LOL:
فرحان محمد خان — اپریل 26، 2017 7:41 صبح
لبِ ساحل سے تھوڑی دور ہے ریگِ رواں پیاسی
اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں
واہ واہ بہت خوب
کاشف اسرار احمد — اپریل 26، 2017 12:31 شام
لبِ ساحل سے تھوڑی دور ہے ریگِ رواں پیاسی
اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں
واہ واہ بہت خوب
حسنِ نظر ہے جناب کا !
شکریہ
طارق سعید — اپریل 26، 2017 2:27 شام
خوب!!! "اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں"
محمد تابش صدیقی — اپریل 26، 2017 2:29 شام
بہت عمدہ کاشف بھائی.
نفس یک دو نفس کی زندگانی کا بھروسہ کیا
طلب دنیا کی کیوں بندے دلِ ناداں میں رکھتے ہیں

فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ہم ایسی وسعتیں تو تنگئی داماں میں رکھتے ہیں

لبِ ساحل سے تھوڑی دور ہے ریگِ رواں پیاسی
اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں

گرہ رشتوں میں ہے کاشف مگر حیرت ہے، ہم پھر بھی
اسے شامل دعاؤں میں ہر اک امکاں میں رکھتے ہیں
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 26، 2017 3:05 شام
گرہ رشتوں میں ہے کاشف مگر حیرت ہے، ہم پھر بھی
اسے شامل دعاؤں میں ہر اک امکاں میں رکھتے ہیں
ماشاءاللہ۔بہت زبردست غزل ہے۔
کاشف اسرار احمد — اپریل 26، 2017 5:42 شام
خوب!!! "اور ایسی تشنگی ہم دل کے ہر ارماں میں رکھتے ہیں"
شکریہ طارق بھائی
بہت عمدہ کاشف بھائی.
سلامت رہیں تابش بھائی۔ آپ کی تعریف میرے لئے سند ہے !
ماشاءاللہ۔بہت زبردست غزل ہے۔
جزاک اللہ۔
نوازش۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE.95793/